پیر، 4 جون، 2018

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے

کہیں لوگ تنہا کہیں گھر اکیلے 
کہاں تک میں دیکھوں یہ منظر اکیلے 

گلی میں ہواؤں کی سرگوشیاں ہیں 
گھروں میں مگر سب صنوبر اکیلے 

نمائش ہزاروں نگاہوں نے دیکھی 
مگر پھول پہلے سے بڑھ کر اکیلے 

اب اک تیر بھی ہو لیا ساتھ ورنہ 
پرندہ چلا تھا سفر پر اکیلے 

جو دیکھو تو اک لہر میں جا رہے ہیں 
جو سوچو تو سارے شناور اکیلے 

تری یاد کی برف باری کا موسم 
سلگتا رہا دل کے اندر اکیلے 

ارادہ تھا جی لوں گا تجھ سے بچھڑ کر 
گزرتا نہیں اک دسمبر اکیلے 

زمانے سے قاصرؔ خفا تو نہیں ہیں 
کہ دیکھے گئے ہیں وہ اکثر اکیلے

منگل، 22 مئی، 2018

ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی


ملنے کی ہر آس کے پیچھے ان دیکھی مجبوری تھی
راہ میں دشت نہیں پڑتا تھا چار گھروں کی دوری تھی

جذبوں کا دم گھٹنے لگا ہے لفظوں کے انبار تلے
پہلے نشاں زد کر لینا تھا جتنی بات ضروری تھی

تیری شکل کے ایک ستارے نے پل بھر سرگوشی کی
شاید ماہ و سال وفا کی بس اتنی مزدوری تھی

پیار گیا تو کیسے ملتے رنگ سے رنگ اور خواب سے خواب
ایک مکمل گھر کے اندر ہر تصویر ادھوری تھی

ایک غزال کو دور سے دیکھا اور غزل تیار ہوئی
سہمے سہمے سے لفظوں میں ہلکی سی کستوری تھی

جمعہ، 23 مارچ، 2018

خرابہ ایک دن بن جائے گھر ایسا نہیں ہوگا

خرابہ ایک دن بن جائے گھر ایسا نہیں ہوگا 
اچانک جی اٹھیں وہ بام و در ایسا نہیں ہوگا 

وہ سب اک بجھنے والے شعلۂ جاں کا تماشا تھا 
دوبارہ ہو وہی رقص شرر ایسا نہیں ہوگا 

وہ ساری بستیاں وہ سارے چہرے خاک سے نکلیں 
یہ دنیا پھر سے ہو زیر و زبر ایسا نہیں ہوگا 

مرے گم گشتگاں کو لے گئی موج رواں کوئی 
مجھے مل جائے پھر گنج گہر ایسا نہیں ہوگا 

خرابوں میں اب ان کی جستجو کا سلسلہ کیا ہے 
مرے گردوں شکار آئیں ادھر ایسا نہیں ہوگا 

ہیولے رات بھر محراب و در میں پھرتے رہتے ہیں 
میں سمجھا تھا کہ اپنے گھر میں ڈر ایسا نہیں ہوگا 

میں تھک جاؤں تو بازوئے ہوا مجھ کو سہارا دے 
گروں تو تھام لے شاخ شجر ایسا نہیں ہوگا 

کوئی حرف دعا میرے لیے پتوار بن جائے 
بچا لے ڈوبنے سے چشم تر ایسا نہیں ہوگا 

کوئی آزار پہلے بھی رہا ہوگا مرے دل کو 
رہا ہوگا مگر اے چارہ گر ایسا نہیں ہوگا 

بحد وسعت زنجیر گردش کرتا رہتا ہوں 
کوئی وحشی گرفتار سفر ایسا نہیں ہوگا 

بدایوں تیری مٹی سے بچھڑ کر جی رہا ہوں میں 
نہیں اے جان من، بار دگر ایسا نہیں ہوگا

عرفان صدیقی

جمعرات، 1 مارچ، 2018

ماڑے دی تقدیر وغیرہ

ماڑے دی تقدیر وغیرہ
ملاں پنڈت پیر وغیرہ

جے کر مرزے سو جاون تے
ٹٹ جاندے نیں تیر وغیرہ

غیرت غیرت کر دے مر گئے
کنے خان شمیر وغیرہ

جے کر عشق دے راہ پینڑا  ای 
صاحباں!تیرے ویر وغیرہ؟

اردو غزل وی ٹھیک اے صابر
ہاں اوہ غالب میر وغیرہ

صابر علی صابر

منگل، 30 جنوری، 2018

لفظ الو پر اشعار

برباد گلستاں کرنے کو بس ایک ہی الو کافی تھا
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا
شوق بہرائچی

کیک بسکٹ کھائیں گے الو کے پٹھے رات دن
اور شریفوں کے لیے آٹا گراں ہو جائے گا
حسین میر کاشمیری

اس کا ٹیڑھا اونٹ نہ دیکھ
اپنا الو سیدھا کر
محمد علوی

کس طرح طالع عدو ہو سعد
کس طرح الو ہو ہما ہمدم
حاتم علی مہر

مرتی اس گل پہ ہے بکتا ہے جو کوڑی کوڑی
تجھ پہ مرتی نہیں بلبل بھی کچھ الو سی ہے
محمد امان نثار

اگر دشمن کی تھوڑی سی مرمت اور ہو جاتی
تو پھر الو کے پٹھے کو نصیحت اور ہو جاتی
بوم میرٹھی

ہمت ہمائے اوج سعادت ہے مرد کو
الو ہیں وہ جو شیفتہ ظل ہما کے ہیں
اسماعیل میرٹھی

سنا ہے کہ دلی میں الو کے پٹھے
رگ گل سے بلبل کے پر باندھتے ہیں
نامعلوم

جمعہ، 29 دسمبر، 2017

دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے

دل وہ پیاسا ہے کہ دریا کا تماشا دیکھے
اور پھر لہر نہ دیکھے کف دریا دیکھے

میں ہر اک حال میں تھا گردش دوراں کا امیں
جس نے دنیا نہیں دیکھی مرا چہرہ دیکھے

اب بھی آتی ہے تری یاد پہ اس کرب کے ساتھ
ٹوٹتی نیند میں جیسے کوئی سپنا دیکھا

رنگ کی آنچ میں جلتا ہوا خوشبو کا بدن
آنکھ اس پھول کی تصویر میں کیا کیا دیکھے

کوئی چوٹی نہیں اب تو مرے قد سے آگے
یہ زمانہ تو ابھی اور بھی اونچا دیکھے

پھر وہی دھند میں لپٹا ہوا پیکر ہوگا
کون بے کار میں اٹھتا ہوا پردہ دیکھے

ایک احساس ندامت سے لرز اٹھتا ہوں
جب رم موج مری وسعت صحرا دیکھے

اختر امام رضوی

جمعہ، 22 دسمبر، 2017

تیرے خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے

پیار کی آخری پونجی بھی لٹا آیا ہوں 
اپنی ہستی کو بھی لگتا ہے مٹا آیا ہوں 
عمر بھر کی جو کمائی تھی گنوا آیا ہوں 
تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں 
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں 

تو نے لکھا تھا جلا دوں میں تری تحریریں 
تو نے چاہا تھا جلا دوں میں تری تصویریں 
سوچ لیں میں نے مگر اور ہی کچھ تدبیریں 
تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں 
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں 

تیرے خوشبو میں بسے خط میں جلاتا کیسے 
پیار میں ڈوبے ہوئے خط میں جلاتا کیسے 
تیرے ہاتھوں کے لکھے خط میں جلاتا کیسے 
تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں 
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں 

جن کو دنیا کی نگاہوں سے چھپائے رکھا 
جن کو اک عمر کلیجے سے لگائے رکھا 
دین جن کو جنہیں ایمان بنائے رکھا 
جن کا ہر لفظ مجھے یاد ہے پانی کی طرح 
یاد تھے مجھ کو جو پیغام زبانی کی طرح 
مجھ کو پیارے تھے جو انمول نشانی کی طرح 
تو نے دنیا کی نگاہوں سے جو بچ کر لکھے 
سالہا سال مرے نام برابر لکھے 
کبھی دن میں تو کبھی رات کو اٹھ کر لکھے 
تیرے رومال ترے خط ترے چھلے بھی گئے 
تیری تصویریں ترے شوخ لفافے بھی گئے 
ایک یگ ختم ہوا یگ کے فسانے بھی گئے 
تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں 
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں 

کتنا بے چین انہیں لینے کو گنگا جل تھا 
جو بھی دھارا تھا انہیں کے لیے وہ بے کل تھا 
پیار اپنا بھی تو گنگا کی طرح نرمل تھا 
تیرے خط آج میں گنگا میں بہا آیا ہوں 
آگ بہتے ہوئے پانی میں لگا آیا ہوں

راجندر ناتھ رہبر
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔