بدھ، 19 جولائی، 2017

زندہ ہوں اور ہجر کا آزار تک نہیں

زندہ ہوں اور ہجر کا آزار تک نہیں
وہ کام کر رہا ہوں جو دشوار تک نہیں

اب میں ہوں اور تجھ کو منانے کی جستجو
کچھ بھی نہیں ہے راہ میں، پندار تک نہیں

یعنی مرا وجود ہی مشکوک ہو گیا
اب تو میں اپنے آپ سے بیزار تک نہیں

لَو بھی تھکن سے چُور ہوئی ہے، دماغ بھی
اور آسماں پہ صبح کے آثار تک نہیں

اقرار کر کے اُس کو نبھانا کسے نصیب
اس عمر میں تو مہلتِ انکار تک نہیں

تھی جس کی پور پور مری لمس آشنا
اب یاد اُس کے گیسو و رخسار تک نہیں

اس بے کراں خلا میں نگاہوں کو کیا کروں
اب تو نظر کے سامنے دیوار تک نہیں

پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں


پس پردہ تجھے ہر بزم میں شامل سمجھتے ہیں
کوئی محفل ہو ہم اس کو تری محفل سمجھتے ہیں

بڑے ہشیار ہیں وہ جن کو سب غافل سمجھتے ہیں
نظر پہچانتے ہیں وہ مزاج دل سمجھتے ہیں

وہ خود کامل ہیں مجھ ناقص کو جو کامل سمجھتے ہیں
وہ حسن ظن سے اپنا ہی سا میرا دل سمجھتے ہیں

سمجھتا ہے گنہ رندی کو تو اے زاہد خود بیں
اور ایسے زہد کو ہم کفر میں داخل سمجھتے ہیں

سمجھتا ہے غلط لیلیٰ کو لیلیٰ قیس دیوانہ
نظر والے تو لیلیٰ کو بھی اک محمل سمجھتے ہیں

سڑی دیوانہ سودائی  جو چاہے سو کہے دنیا
حقیقت بیں مگر مجذوبؔ کو عاقل سمجھتے ہیں

منگل، 13 جون، 2017

وہی اک فریب حسرت کہ تھا بخشش نگاراں

وہی اک فریب حسرت کہ تھا بخشش نگاراں
سو قدم قدم پہ کھایا بہ طریق پختہ کاراں

وہ چلے خزاں کے ڈیرے کہ ہے آمد بہاراں
شب غم کے رہ نشینو کہو اب صلاح یاراں

مرے آشیاں کا کیا ہے مرا آسماں سلامت
ہیں مرے چمن کی رونق یہی برق و باد و باراں

نہ سہی پسند حکمت یہ شعار اہل دل ہے
کبھی سر بھی دے دیا ہے بہ صلاح دوست داراں

رہے حسن بن کے آخر جو خیال ادھر سے گزرے
یہ کدھر کی چاندنی تھی سر خاک رہ گزاراں

مرے ایک دل کی خاطر یہ کشاکش حوادث
ترے ایک غم کے بدلے یہ ہجوم غم گساراں

مری وحشتوں نے جس کو نہ بنا کے راز رکھا
وہی راز ہے کہ اب تک ہے میان راز داراں

شان الحق حقی

منگل، 18 اپریل، 2017

میں الجھ گیا جہاں راہ میں وہاں ایک جم غفیر تھا

دو یا تین سال قبل محمداحمد بھائی نے اعزاز احمد آذؔر صاحب کا کلام بزبان شاعر پیش کیا تھا جس کی آج یوں ہی بیٹھے بیٹھے مجھے یاد آگئی۔ تلاش بسیار کے باوجود مجھے یونیکوڈ میں وہ کلام نہیں ملا ، ماسوائے ان دو اشعار کے جو میں نے ہی بدقسمتی سے وہاں سے سن کر لکھے تھے۔ آج اسی کلام کو دوبارہ سن کر یہاں پیش کر رہا ہوں۔ املا کی اغلاط ہوں یا سننے میں کوئی کمی کوتاہی ہو تو نشاندہی فرمائیے  گا۔

میں الجھ گیا جہاں راہ میں وہاں ایک جم غفیر تھا
مرے مہرباں مری کیا خطا، وہاں تیرا ذکر کثیر تھا

مرے دوستو مرے ساتھیو ، مجھے شہر سے کہیں لے چلو
میں اسیر حبس مدام ہوں، میں کھلی ہوا کا سفیر تھا

جو بدل گئی ہے ہوا تو کیا، ہوں گدائے شہر وفا تو کیا
ابھی اگلے روز کی بات ہے،  اسی سلطنت کا امیر تھا

اے فقیہ شہر وہ کیا ہوئی، یہاں سب سے اہم جو چیز تھی
وہی جس پہ آپ کو ناز تھا، وہی جس کا نام ضمیر تھا

ذرا بھول کر مری ہار کو ، مرے دشمنوں مجھے داد دو
میں لڑا ہوں آخری سانس تک، مرے پاس ایک ہی تیر تھا

ذرا ٹھہر آذؔر کج سخن، تجھے کون پوچھے گا جانِ من
یہ وہ شہر فن ہے جہاں کبھی ، کوئی داغ تھا کوئی میر تھا

بدھ، 29 مارچ، 2017

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے
دنیا نے تیرے کام کا چھوڑا نہیں مجھے

ہاں ٹھیک ہے میں بھولا ہوا ہوں جہان کو
لیکن خیال اپنا بھی ہوتا نہیں مجھے

اب اپنے آنسوؤں پہ ہے سیرابئ حیات
کچھ اور اس فلک پہ بھروسا نہیں مجھے

ہے مہرباں کوئی جو کئے جا رہا ہے کام
ورنہ معاش کا تو سلیقہ نہیں مجھے

اے رہگذار سلسلۂ عشق بے لگام
جانا کہاں ہے تو نے بتایا نہیں مجھے

ہے تو مرا بھی نام سر فہرس جنوں
لیکن ابھی کسی نے پکارا نہیں مجھے

منگل، 21 مارچ، 2017

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے
یہ مری آنکھ کا آنسو ہی ستارا ہے مجھے

میں کسی دھیان میں بیٹھا ہوں مجھے کیا معلوم
ایک آہٹ نے کئی بار پکارا ہے مجھے

آنکھ سے گرد ہٹاتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں
اپنے بکھرے ہوئے ملبے کا نظارا ہے مجھے

اے مرے لاڈلے اے ناز کے پالے ہوئے دل
تو نے کس کوئے ملامت سے گزارا ہے مجھے

میں تو اب جیسے بھی گزرے گی گزاروں گا یہاں
تم کہاں جاؤ گے دھڑکا تو تمہارا ہے مجھے

تو نے کیا کھول کے رکھ دی ہے لپیٹی ہوئی عمر
تو نے کن آخری لمحوں میں پکارا ہے مجھے

میں کہاں جاتا تھا اس بزم نظر بازاں میں
لیکن اب کے ترے ابرو کا اشارا ہے مجھے

جانے میں کون تھا لوگوں سے بھری دنیا میں
میری تنہائی نے شیشے میں اتارا ہے مجھے

جمعہ، 20 جنوری، 2017

جو دِل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی

جو دِل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی
یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی

جھکیں جو سوچتی پلکیں تو میری دنیا کو
ڈبو گئی وہ ندی جو ابھی بہی بھی نہ تھی

سنی جو بات کوئی ان سنی تو یاد آیا
وہ دِل کہ جس کی کہانی کبھی کہی بھی نہ تھی

نگر نگر وہی آنکھیں، پس زماں، پسِ در
مری خطا کی سزا عمرِ گمرہی بھی نہ تھی

کسی کی روح تک اک فاصلہ خیال کا تھا
کبھی کبھی تو یہ دوری رہی سہی بھی نہ تھی

نشے کی رو میں یہ جھلکا ہے کیوں نشے کا شعور
اس آگ میں تو کوئی آبِ آگہی بھی نہ تھی

غموں کی راکھ سے امجد وہ غم طلوع ہوئے
جنھیں نصیب اک آہِ سحرگہی بھی نہ تھی

اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔