بدھ، 29 مارچ، 2017

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے

اچھا ہے تو نے ان دنوں دیکھا نہیں مجھے
دنیا نے تیرے کام کا چھوڑا نہیں مجھے

ہاں ٹھیک ہے میں بھولا ہوا ہوں جہان کو
لیکن خیال اپنا بھی ہوتا نہیں مجھے

اب اپنے آنسوؤں پہ ہے سیرابئ حیات
کچھ اور اس فلک پہ بھروسا نہیں مجھے

ہے مہرباں کوئی جو کئے جا رہا ہے کام
ورنہ معاش کا تو سلیقہ نہیں مجھے

اے رہگذار سلسلۂ عشق بے لگام
جانا کہاں ہے تو نے بتایا نہیں مجھے

ہے تو مرا بھی نام سر فہرس جنوں
لیکن ابھی کسی نے پکارا نہیں مجھے

منگل، 21 مارچ، 2017

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے

رات گہری ہے مگر ایک سہارا ہے مجھے
یہ مری آنکھ کا آنسو ہی ستارا ہے مجھے

میں کسی دھیان میں بیٹھا ہوں مجھے کیا معلوم
ایک آہٹ نے کئی بار پکارا ہے مجھے

آنکھ سے گرد ہٹاتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں
اپنے بکھرے ہوئے ملبے کا نظارا ہے مجھے

اے مرے لاڈلے اے ناز کے پالے ہوئے دل
تو نے کس کوئے ملامت سے گزارا ہے مجھے

میں تو اب جیسے بھی گزرے گی گزاروں گا یہاں
تم کہاں جاؤ گے دھڑکا تو تمہارا ہے مجھے

تو نے کیا کھول کے رکھ دی ہے لپیٹی ہوئی عمر
تو نے کن آخری لمحوں میں پکارا ہے مجھے

میں کہاں جاتا تھا اس بزم نظر بازاں میں
لیکن اب کے ترے ابرو کا اشارا ہے مجھے

جانے میں کون تھا لوگوں سے بھری دنیا میں
میری تنہائی نے شیشے میں اتارا ہے مجھے
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔