منگل، 28 جنوری، 2014

کیوں اے فلک جو ہم سے جوانی جُدا ہوئی

کیوں اے فلک جو ہم سے جوانی جُدا ہوئی
اِک خود بخود جو دل میں خوشی تھی وہ کیا ہوئی

گُستاخ بلبلوں سے بھی بڑھ کر صبا ہوئی
کچھ جھُک کر گوش گُل میں کہا اور ہوا ہوئی

مایوس دل نے ایک نہ مانی امید کی
کہہ سن کے یہ غریب بھی حق سے ادا ہوئی

دنیا کا فکر ، موت کا ڈر، آبرو کا دھیان
دو دن کی زندگی مرے حق میں بلا ہوئی

موتی تمہارے کان کے تھرّا رہے ہیں کیوں
فریاد کس غریب کی گوش آشنا ہوئی

برسا جو ابرِ رحمتِ خالق بروزِ حشر
سبزہ کی طرح پھر مِری نشو و نما ہوئی

بیماریوں سے چھٹ گئے اے شادؔ حشر تک
قربان اس علاج کے، اچھی دوا ہوئی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔