پیر، 28 اکتوبر، 2013

تم نے بدلے ہم سے گن گن کے لیے​


تم نے بدلے ہم سے گن گن کے لیے
​
ہم نے کیا چاہاتھا اس دن کے لیے​
​
کچھ نرالا ہے جوانی کا بناؤ​
شوخیاں زیور ہیں اس سن کے لیے​
​
وصل میں تنگ آ کے وہ کہنے لگے​
کیا یہ جوبن تھا اسی دن کے لیے​
​
چاہنے والوں سے گر مطلب نہیں​
آپ پھر پیدا ہوئے کن کے لیے​
​
فیصلہ ہو آج میرا آپ کا​
یہ اٹھا رکھا ہے کس دن کے لیے​
​
دے مئے بے درد اے پیر مغاں​
چاہیے اک پاک باطن کے لیے​
​
دل کے لینے کو ضمانت چاہیے​
اور اطمینان ضامن کے لیے​
​
مے کشو مژدہ، اب آئی فصلِ گل​
بلبلوں نے چونچ میں تنکے لیے​
​
ہم نشینوں سے مرے کہتے ہیں وہ​
چھوڑ دیں غیروں کو کیا ان کے لیے​
​
ہیں رخِ نازک پہ گنتی کے نشاں​
کس نے تیرے بوسے گن گن کے لیے​
​
وہ نہیں سنتے ہماری کیا کریں​
مانگتے ہیں ہم دعا جن کے لیے​
​
آج کل میں داغؔ ہو گے کامیاب​
کیوں مرے جاتے ہو دو دن کے لیے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔