‏اقبال اشہر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اقبال اشہر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 8 فروری، 2014

ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی​

ٹھہری ٹھہری ہوئی طبیعت میں روانی آئی​
آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی​
​
آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا​
آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی​
​
مدّتوں بعد چلا اُن پہ ہمارا جادو​
مدّتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی​
​
مدّتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے​
مدّتوں بعد ہمیں پیاس چُھپانی آئی​
​
مدّتوں بعد کھُلی وسعتِ صحرا ہم پر​
مدّتوں بعد ہمیں خاک اُڑانی آئی​
​
مدّتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل​
مدّتوں بعد ہمیں نیند سُہانی آئی​
​
اتنی آسانی سے ملتی نہیں فن کی دولت​
ڈھل گئی عمر تو غزلوں پہ جوانی آئی​

منگل، 4 فروری، 2014

اسے بچائے کوئی کیسے ٹوٹ جانے سے

اسے بچائے کوئی کیسے ٹوٹ جانے سے
وہ دل جو باز نہ آئے فریب کھانے سے

وہ شخص ایک ہی لمحے میں ٹوٹ پھوٹ گیا
جسے تراش رہا تھا میں اک زمانے سے

رکی رکی سی نظر آ رہی ہے نبضِ حیات
یہ کون اٹھ کے گیا ہے میرے سرہانے سے

نہ جانے کتنے چراغوں کو مِل گئی شہرت
اک آفتاب کے بے وقت ڈوب جانے سے

اداس چھوڑ گیا وہ ہر اک موسم کو
گلاب کِھلتے تھے کل جس کے مسکرانے سے
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔