‏مرزا غالب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏مرزا غالب لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 10 جون، 2016

کیا ہے ترکِ دنیا کاہلی سے

کیا ہے ترکِ دنیا کاہلی سے
ہمیں حاصل نہیں بے حاصلی سے

خراجِ دیہہِ ویراں، یک کفِ خاک
بیاباں خوش ہوں تیری عاملی سے

پرافشاں ہو گئے شعلے ہزاروں
رہے ہم داغ، اپنی کاہلی سے

خدا، یعنی پدر سے مہرباں تر
پھرے ہم در بدر ناقابلی سے

اسؔد قربانِ لطفِ جورِ بیدل
خبر لیتے ہیں، لیکن بیدلی سے

منگل، 9 دسمبر، 2014

شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے

شبنم بہ گلِ لالہ نہ خالی ز ادا ہے
داغِ دلِ بے درد، نظر گاہِ حیا ہے

دل خوں شدۂ کشمکشِ حسرتِ دیدار
آئینہ بہ دستِ بتِ بدمستِ حنا ہے

شعلے سے نہ ہوتی، ہوسِ شعلہ نے جو کی
جی کس قدر افسردگئ دل پہ جلا ہے

تمثال میں تیری ہے وہ شوخی کہ بصد ذوق
آئینہ بہ اند ازِ گل آغوش کشا ہے

قمری کفِ خا کستر و بلبل قفسِ رنگ
اے نالہ! نشانِ جگرِ سو ختہ کیا ہے؟

خو نے تری افسردہ کیا وحشتِ دل کو
معشوقی و بے حوصلگی طرفہ بلا ہے

مجبوری و دعوائے گرفتارئ الفت
دستِ تہِ سنگ آمدہ پیمانِ وفا ہے

معلوم ہوا حالِ شہیدانِ گزشتہ
تیغِ ستم آئینۂ تصویر نما ہے

اے پرتوِ خورشیدِ جہاں تاب اِدھر بھی
سائے کی طرح ہم پہ عجب وقت پڑا ہے

ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد
یا رب اگر ِان کردہ گناہوں کی سزا ہے

بیگانگئِ خلق سے بیدل نہ ہو غالب
کوئی نہیں تیرا، تو مری جان، خدا ہے

پیر، 27 جنوری، 2014

اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل

اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار! اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے

دیکھو مجھے جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو، جو گوشِ نصیحت نیوش ہے

ساقی، بہ جلوہ، دشمنِ ایمان و آگہی
مُطرب، بہ نغمہ، رہزنِ تمکین و ہوش ہے

یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
دامانِ باغبان و کفِ گُل فروش ہے

لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ
یہ جنتِ نگاہ، وہ فردوسِ گوش ہے

یا صبح دم جو دیکھیے آ کر، تو بزم میں
نے وہ سُرور و سُور، نہ جوش و خروش ہے

داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے، سو وہ بھی خموش ہے

آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالب! صریرِ خامہ، نواے سروش ہے

ہفتہ، 6 اپریل، 2013

دل سے تری نگاہ جگر میں اتر گئی

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
دونوں کو اک ادا میں رضامند کر گئی

شق ہو گیا ہے سینہ خوشا لذتِ فراغ
تکلیف پردہ داری زخمِ جگر گئی

وہ بادہ شبانہ کی سر مستیاں کہاں
اٹھیے بس اب کہ لذت خوابِ سحر گئی

اڑتی پھرے ہے خاک مری کوئے یار میں
بارے اب اے ہوا ہوس بال و پر گئی

دیکھو تو دل فریبی اندازِ نقشِ پا
موجِ خرام یار بھی کیا گل کتر گئی

ہر بو‌ل ہوس نے حسن پرستی شعار کی
اب آبروئے شیوہ اہلِ نظر گئی

نظارے نے بھی کام کیا واں نقاب کا
مستی سے ہر نگہ ترے رخ پر بکھر گئی

فردا و دی کا تفرقہ یک بار مٹ گیا
کل تم گئے کہ ہم پہ قیامت گزر گئی


مارا زمانے نے اسدللہ خاں تمہیں
وہ ولولے کہاں وہ جوانی کدھر گئی

جمعہ، 18 جنوری، 2013

دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا

دھمکی میں مر گیا، جو نہ بابِ نبرد تھا
عشقِ نبرد پیشہ, طلبگارِ مرد تھا

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا

تالیفِ نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعۂ خیال ابھی فرد فرد تھا

دل تاجگر، کہ ساحلِ دریائے خوں ہے اب
اس رہ گزر میں جلوۂ گل، آگے گرد تھا

جاتی ہے کوئی کشمکش اندوہِ عشق کی !
دل بھی اگر گیا، تو وُہی دل کا درد تھا

احباب چارہ سازئ وحشت نہ کر سکے
زنداں میں بھی خیال، ببایاں نورد تھا

یہ لاشِ بے کفن اسد خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔