‏تنویر سپرا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏تنویر سپرا لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 27 مئی، 2014

شیشے دلوں کے گردِ تعصب سے اَٹ گئے

شیشے دلوں کے گردِ تعصب سے اَٹ گئے
روشن دماغ لوگ بھی فرقوں میں بٹ گئے

اظہار کا دباؤ بڑا ہی شدید تھا
الفاظ روکتے ہی مرے ہونٹ پھٹ گئے

بارش کو دشمنی تھی فقط میری ذات سے
جونہی مرا مکان گرا ، اَبر چَھٹ گئے

دھرتی پہ اُگ رہی ہیں فلک بوس چمنیاں
جن سے فضائیں عطر تھیں وہ پیڑ کٹ گئے

سپرا پڑوس میں نئی تعمیر کیا ہوئی
میرے بدن کے رابطے سورج سے کٹ گئے

بدھ، 26 دسمبر، 2012

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے

بیٹے کو سزا دے کے عجب حال ہوا ہے
دل پہروں مرا کرب کے دوزخ میں جلا ہے

عورت کو سمجھتا تھا جو مردوں کا کھلونا
اس شخص کو داماد بھی ویسا ہی ملا ہے

ہر اہل ہوس جیب میں بھر لایا ہے پتھر
ہمسا ئے کی بیری پہ ابھی بور پڑا ہے

اب تک میرے اعصاب پہ محنت ہے مسلط
اب تک میرے کانوں میں مشینوں کی صدا ہے

اے رات !مجھے ماں کی طرح گود میں لے لے
دن بھر کی مشقت سے بدن ٹوٹ رہا ہے

شاید میں غلط دور میں اترا ہوں زمیں پر
ہر شخص تحیر سے مجھے دیکھ رہا ہے

اطراف میں باریش بزرگوں کا ہے پہرا
اور بیچ میں سہما ہوا تنویر کھڑا ہے
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔