انور مسعود لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
انور مسعود لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 25 مارچ، 2014

بوسنیا از انورؔ مسعود

بوسنیا

آج تمہاری خونخواری پر حیرت ہے حیوانوں کو
تم تو کل تہذیب سکھانے نکلے تھے انسانوں کو

یہ بھی کیسا شوق ہے تم کو شہروں کی بربادی کا
جگہ جگہ آباد کیا ہے تم نے قبرستانوں کو

ہنستے بستے قریے تم نے شعلوں میں کفنائے ہیں
ریت میں دفن کیا ہے تم نے کتنے نخلستانوں کو

تم نے تو سچائی کو مترادف سمجھا لاٹھی کا
عین ترازو جان لیا ہے تم نے تیر کمانوں کو

زنداں زنداں بِھیڑ لگائی بےتقصیر اسیروں کی
مقتل میں تبدیل کیا ہے تم نے پھر زندانوں کو

کتنے ہی معصوم سروں سے تم نے چھاؤں چھینی ہے
کتنا دکھ پہنچایا  تم نے ننھی ننھی جانوں کو!

اتنے بھی سفّاک منافق دنیا نے کب دیکھے تھے
کتوں کا منہ چومنے والے قتل کریں انسانوں کو

ظلم و ستم کی خونی شب کا منظر بجھنے والا ہے
اک عنوان فراہم ہوگا عبرت کے افسانوں کو

باطل کا بےہنگم غوغا کوئی دم کا مہماں ہے
کوئی شور دبا نہیں سکتا مست الست اذانوں کو

منگل، 18 مارچ، 2014

کلام کرتی نہیں میری چشم تر جیسے

کلام کرتی نہیں میری چشم تر جیسے
تمہیں نہیں ہے مرے حال کی خبر جیسے

کہیں جہاں میں سُکھ بھی نہیں ہے گھر جیسا
کہیں جہاں میں دُکھ بھی نہیں ہیں گھر جیسے

چلا ہے اُس کی گلی کو اُسی طرح انورؔ
سحر کو لوگ روانہ ہوں کام پر جیسے

اتوار، 19 جنوری، 2014

غبار جاں نکلنا جانتا ہے

غبار جاں نکلنا جانتا ہے
دھواں روزن کا رستا جانتا ہے

تم اس کی رہنمائی کیا کرو گے
کدھر جانا ہے دریا جانتا ہے

بہت حیراں ہوا میں اس سے مل کر
مجھے اک شخص کتنا جانتا ہے

نہیں چلتے زمانے کی روش پر
ہمیں بھی اک زمانہ جانتا ہے

بڑے چرچے ہیں اُس کی آگہی کے
مگر انساں ابھی کیا جانتا ہے

کیے ہیں جس نے دل تخلیق انورؔ
دلوں کا حال سارا جانتا ہے
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔