‏بشیر بدر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏بشیر بدر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 22 نومبر، 2016

وہی تاج ہے وہی تخت ہے وہی زہر ہے وہی جام ہے

وہی تاج ہے وہی تخت ہے وہی زہر ہے وہی جام ہے
یہ وہی خُدا کی زمین ہے یہ وہی بتوں کا نظام ہے

بڑے شوق سے میرے گھر جلا، کوئی آنچ تجھ پہ نہ آئے گی
یہ زباں کسی نے خرید لی، یہ قلم کسی کا غلام ہے

یہاں ایک بچے کے خون سے لکھا ہوا ہے اسے پڑھیں 
تیرا کیرتن ابھی پاپ ہے ابھی میرا سجدہ حرام ہے

میں یہ مانتا ہوں میرے دیے تیری آندھیوں نے بجھا دیے
مگر ایک جگنو ہواؤں میں ابھی روشنی کا امام ہے

میرے فکر و فن تیری انجمن، نہ عروج ہے نہ زوال ہے
میرے لب پہ تیرا ہی نام تھا میرے لب پہ تیرا ہی نام ہے

جمعہ، 20 جون، 2014

بڑی آگ ہے، بڑی آنچ ہے، ترے میکدے کے گلاب میں

بڑی آگ ہے،  بڑی آنچ ہے،  ترے میکدے کے گلاب میں
کئی بالیاں ،  کئی چوڑیاں یہاں گھل رہی ہیں شراب میں

وہی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا ،  وہی لکھنے پڑھنے کا شوق ہے
ترا نام لکھنا کتاب پر،  ترا نام پڑھنا کتاب میں

وہ بدن سخن کا جمال ہے، وہ جمال اپنی مثال ہے
کوئی ایک مصرعہ نہ کہہ سکا، کبھی اس غزل کے جواب میں

یہ نوازشیں یہ عنایتیں، ترا شکر کیسے ادا کروں
سرِ راہ پھول بچھا دیے، مرے آنسوؤں کے جواب میں

مرے زرد پتوں کی چادریں بھی ہوائیں چھین کے لے گئیں
میں عجب گلاب کا پھول ہوں‘جو برہنہ سر ہے شباب میں

یہ دُعا ہے ایسی غزل کہوں ‘کبھی پیش جس سے میں کرسکوں
کوئی حرف تیرے حضور میں‘کوئی شعر تیری جناب میں

نوٹ: پہلے چار اشعار میں نے مشاعرے سے سن کر لکھے ہیں۔ جبکہ آخری دو اشعار جب انٹرنیٹ پر سرچ کیا۔ تو ایک جگہ ملے۔

بدھ، 26 دسمبر، 2012

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا
اُسے یاد کر کے نہ دل دُکھا، جو گزر گیا سو گزر گیا

نہ گلہ کیا نہ خفا ہوئے، یونہی راستے میں جُدا ہوئے
نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا، جو گزر گیا سو گزر گیا

وہ غزل کی ایک کتاب تھا، وہ گُلوں میں ایک گلاب تھا
ذرا دیر کا کوئی خواب تھا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں ،نہ سنا سنا کر اداس کر
تُو خزاں کا پھول ہے مُسکرا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر، کہیں وادیوں میں اُتر چکا
اُسے اب نہ دے میرے دل صدا، جو گزر گیا سو گزر گیا

یہ سفر بھی کتنا طویل ہے، یہاں وقت بھی کتنا قلیل ہے
کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا، جو گزر گیا سو گزر گیا

وہ وفائیں تھیں یا جفائیں تھیں، یہ نہ سوچ کس کی خطائیں تھیں
وہ تیرا ہے اُس کو گلے لگا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

تجھے اعتبار و یقیں نہیں، نہیں دنیا اتنی بُری نہیں
نہ ملال کر میرے ساتھ آ ، جو گزر گیا سو گزر گیا
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔