‏فراز احمد فراز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏فراز احمد فراز لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 13 جنوری، 2016

بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی​

بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی​
نہ یہ کہ حُسن تام ہو نہ دیکھنے میں عام سی​
​
نہ یہ کہ وہ چلے تو کہکشاں سی رہ گزر لگے​
مگر وہ ساتھ ہو تو پھر بھلا بھلا سفر لگے​
​
کوئی بھی رُت ہو اُس کی چھب فضا کا رنگ و روپ تھی​
وہ گرمیوں کی چھاؤں تھی وہ سردیوں کی دھوپ تھی​
​
نہ مدّتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہو​
نہ رشتۂ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اذنِ عام ہو​
​
نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے​
نہ اتنی بے تکلّفی کہ آئینہ حیا کرے​
​
نہ اختلاط میں وہ رنگ کہ بدمزہ ہوں خواہشیں​
نہ اس قدر سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں​
​
نہ عاشقی جنون کی کہ زندگی عذاب ہو​
نہ اس قدر کٹھور پن کہ دوستی خراب ہو​
​
کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سُخن​
کبھی تو کشتِ زعفراں کبھی اُداسیوں کا بن​
​
سنا ہے ایک عمر ہے معاملاتِ دل کی بھی​
وصالِ جاں فزا تو کیا فراقِ جاں گسل کی بھی​
​
سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی​
میں عشق کو امر کہوں وہ میری ضد سے چڑ گئی​
​
میں عشق کا اسیر تھا وہ عشق کو قفس کہے​
کہ عمر بھر کے ساتھ کو وہ بد تر از ہوس کہے​
​
شجر حجر نہیں کہ ہم ہمیشہ پابہ گِل رہیں​
نہ ڈھور ہیں کہ رسیاں گلے میں مستقل رہیں​
​
محبتوں کی وسعتیں ہمارے دست و پا میں ہیں​
بس ایک در سے نسبتیں سگانِ با وفا میں ہیں​
​
میں کوئی پینٹنگ نہیں کہ اک فریم میں رہوں​
وہی جو من کا میت ہو اُسی کے پریم میں رہوں​
​
تمہاری سوچ جو بھی ہو میں اس مزاج کی نہیں​
مجھے وفا سے بیر ہے یہ بات آج کی نہیں​
​
نہ اُس کو مجھ پہ مان تھا نہ مجھ کو اُس پہ زعم ہی​
جب عہد ہی کوئی نہ ہو تو کیا غمِ شکستگی​
​
سو اپنا اپنا راستہ ہنسی خوشی بدل لیا​
وہ اپنی راہ چل پڑی میں اپنی راہ چل دیا​
​
بھلی سی ایک شکل تھی بھلی سی اُس کی دوستی​
اب اُس کی یاد رات دن؟ نہیں! مگر کبھی کبھی​

بدھ، 26 نومبر، 2014

چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دن

چاہت کے صبح و شام محبت کے رات دن
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

وہ شوقِ بے پناہ میں الفاظ کی تلاش
اظہار کی زباں میں لکنت کے رات دن

وہ ابتدائے عشق وہ آغازِ شاعری
وہ دشتِ جاں میں پہلی مسافت کے رات دن

سودائے آذری میں ہوائے صنم گری
وہ بت پرستیوں میں عبادت کے رات دن

روئے نگاراں و چشمِ غزالاں کے تذکرے
گیسوئے یار وحرف و حکایت کے رات دن

ناکردہ کاریوں پر بھی بدنامیوں کا شور
اختر شماریوں پہ بھی تہمت کے رات دن

میر و انیس و غالب و اقبال سے الگ
راشد ،ندیم ، ٍفیض سے رغبت کے رات دن

رکھ کر کتابِ عقل کو نسیاں کے طاق پر
وہ عاشقی میں دل کی حکومت کے رات دن

ہر روز روزِ ابر تھا، ہر رات چاند رات
آزاد زندگی تھی، فراغت کے رات دن

اک دشمنِ وفا کو بھلانے کے واسطے
چارہ گروں کی پندو نصیحت کے رات دن

پہلے بھی جاں گسل تھے مگر اس قدر نہ تھے
اک شہرِ بے اماں میں سکونت کے رات دن

پھر یہ ہوا شیوہ دل ترک کر دیا
اور تج دیے تھے ہم نے محبت کے رات دن

فکرِ معاش شہر بدر کر گئی ہمیں
پھر ہم تھے اور قلم کی مشقت کے رات دن

نو آوردگانِ شہرِتمنا کو کیا خبر
ہم ساکنانِ کوئے ملامت کے رات دن

منگل، 15 جولائی، 2014

دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں

دشتِ افسُردہ میں اک پھول کھلا ہے سو کہاں
وہ کسی خوابِ گریزاں میں مِلا ہے سو کہاں


ہم نے مدت سے کوئی ہجو نہ واسوخت کہی
وہ سمجھتے ہیں ہمیں اُن سے گلہ ہے سو کہاں


ہم تیری بزم سے اُٹھے بھی تو خالی دامن
لوگ کہتے ہیں کہ ہر دُ کھ کا صلہ ہے سو کہاں


آنکھ اسی طور برستی ہے تو دل رستا ہے
یوں تو ہر زخم قرینے سے سِلا ہے سو کہاں


بارہا کوچۂ جاناں سے بھی ہو آئے ہیں
ہم نے مانا کہیں جنت بھی دلا ہے سو کہاں


جلوۂ دوست بھی دُھندلا گیا آخر کو فراز
ورنہ کہنے کو تو غم، دل کی جلا ہے سو کہاں

منگل، 1 جولائی، 2014

خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے

خاموش ہو کیوں دادِ جفا کیوں نہیں دیتے
بسمل ہو تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے

وحشت کا سبب روزنِ زنداں تو نہیں ہے
مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے

اک یہ بھی تو اندازِ علاجِ غمِ جاں ہے
اے چارہ گرو، درد بڑھا کیوں نہیں دیتے

منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کرو گے
مجرم ہیں اگر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے

رہزن ہو تو حاضر ہے متاعِ دل و جاں بھی
رہبر ہو تو منزل کا پتا کیوں نہیں دیتے

کیا بیت گئی اب کے فراؔز اہلِ چمن پر
یارانِ قفس مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے

جمعہ، 14 مارچ، 2014

دکھ فسانہ نہیں ‌کہ تجھ سے کہیں

دکھ فسانہ نہیں ‌کہ تجھ سے کہیں
دل بھی مانا نہیں کہ تجھ سے کہیں

آج تک اپنی بے کلی کا سبب
خود بھی جانا نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں

بے طرح حال دل ہے اور تجھ سے
دوستانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں

ایک تو حرف آشنا تھا مگر
اب زمانہ نہیں کہ تجھ سے کہیں

قاصد! ہم فقیر لوگوں کا
اک ٹھکانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں

اے خدا درد دل ہے بخشش دوست
آب و دانہ نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں

اب تو اپنا بھی اس گلی میں‌فرازؔ
آنا جانا نہیں‌ کہ تجھ سے کہیں

جمعرات، 6 فروری، 2014

دل ٹھہرنے دے تو آنکھیں بھی جھپکتے جاویں

دل ٹھہرنے دے تو آنکھیں بھی جھپکتے جاویں
ہم کہ تصویر بنے بس تجھے تکتے جاویں

چوبِ نم خوردہ کی مانند سلگتے رہے ہم
نہ تو بجھ پائیں نہ بھڑکیں نہ دہکتے جاویں

تیری بستی میں تیرا نام پتہ کیا پوچھا
لوگ حیران و پریشان ہمیں تکتے جاویں

کیا کرے چارہ کوئی جب ترے اندوہ نصیب
منہ سے کچھ بھی نہ کہیں اور سسکتے جاویں

کوئی نشے سے کوئی تشنہ لبی سے ساقی
تری محفل میں سبھی لوگ بہکتے جاویں

کبھی اس یارِسمن بر کے سخن بھی سنیو
ایسا لگتا ہے کہ غنچے سے چٹکتے جاویں

ہم نوا سنجِ محبّت ہیں ہر ایک رُت میں فراز
وہ قفس ہو کہ گلستاں ہو ، چہکتے جاویں

جمعہ، 7 جون، 2013

ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے

ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے
کہ ہم کو دست زمانہ کے زخم کاری لگے

اداسیاں ہوں‌ مسلسل تو دل نہیں‌ روتا
کبھی کبھی ہو تو یہ کیفیت بھی پیاری لگے

بظاہر ایک ہی شب ہے فراق یار مگر
کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے

علاج اس دل درد آشنا کا کیا کیجئے
کہ تیر بن کے جسے حرف غمگساری لگے

ہمارے پاس بھی بیٹھو بس اتنا چاہتے ہیں
ہمارے ساتھ طبیعت اگر تمہاری لگے

فراز تیرے جنوں کا خیال ہے ورنہ
یہ کیا ضرور وہ صورت سبھی کو پیاری لگے

بدھ، 26 دسمبر، 2012

اظہار

پتھر کی طرح اگر میں چپ رہوں
تو یہ نہ سمجھ کہ میری ہستی
بیگانہ ء شعلہ ِ وفا ہے
تحقیر سے یوں نہ دیکھ مجھ کو
اے سنگ تراش!تیرا تیشہ
ممکن ہے کہ ضرب ِ اولیں سے
پہچان سکے کہ میرے دل میں
جو آگ تیرے لیئے دبی ہے
وہ آگ ہی میری زندگی ہے

ہفتہ، 8 دسمبر، 2012

مت قتل کرو آوازوں کو

تم اپنے عقیدوں کے نیزے
ہر دل میں اتارے جاتے ہو

ہم لوگ محبت والے ہیں
تم خنجر کیوں لہراتے ہو

اس شہر میں نغمے بہنے دو
بستی میں ہمیں بھی رہنے دو

ہم پالنہار ہیں پھولوں کے
ہم خوشبو کے رکھوالے ہیں
تم کس کا لہو پینے آئے ہو
ہم پیار سکھانے والے ہیں

اس شہر میں پھر کیا دیکھو گے
جب حرف یہاں مر جائے گا
جب تیغ پہ لے کٹ جائے گی
جب شعر سفر کر جائے گا

جب قتل ہوا سر سازوں کا
جب کال پڑا آوازوں کا

جب شہر کھنڈر بن جائے گا
پھر کس پہ سنگ اٹھاؤ گے
اپنے چہرے آئینوں میں
جب دیکھو گے ڈر جاؤ گے

مثالِ دستِ زلیخا تپاک چاہتا ہے

مثالِ دستِ زلیخا تپاک چاہتا ہے
یہ دل بھی دامنِ یوسف ہے چاک چاہتا ہے

دعائیں دو مرے قاتل کو تم کہ شہر کا شہر
اُسی کے ہاتھ سے ہونا ہلاک چاہتا ہے

فسانہ گو بھی کرے کیا کہ ہر کوئی سرِ بزم
مآلِ قصۂ دل دردناک چاہتا ہے

اِدھر اُدھر سے کئی آ رہی ہیں آوازیں
اور اُس کا دھیان بہت انہماک چاہتا ہے

ذرا سی گردِ ہوس دل پہ لازمی ہے فرازؔ
وہ عشق کیا ہے جو دامن کو پاک چاہتا ہے

مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے

مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے
شاید اب بھی تیرا غم دل سے لگا رکھا ہو
ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید
اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو

میں نے مانا کہ وہ بیگانہ ٴپیمانِ وفا
کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں
شاید اب لوٹ کے نا آئے تیری محفل میں
اور کوئی دکھ نا رلائے تجھے تنہائی میں

میں نے مانا کہ شب و روز کے ہنگاموں میں
وقت ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ
چاہے امید کی شامیں ہوں کہ یادوں کے چراغ
مستقل بُعد بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ

پھربھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے
مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں
زخم بھر جائیں مگر داغ تو رہ جاتا ہے
دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں

یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن وہ پشیماں ہو کر
تیرے پاس آئے زمانے سے کنارہ کر لے
تُو کہ معصوم بھی ہے، زُود فراموش بھی ہے
اس کی پیماں شکنی کو بھی گوارہ کر لے

اور میں جس نے تجھے اپنا مسیحا جانا
ایک دکھ اور بھی پہلے کی طرح سہہ جاؤں
جس پہ پہلے بھی کئی عہدِ وفا ٹوٹے ہیں
اسی دوراہے پہ چپ چاپ کھڑا رہ جاؤں

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں تمام تیری حکایتیں ہیں
یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں یہ شعر تیری شکایتیں ہیں
میں سب تری نذر کر رہا ہوں ، یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں
جو زندگی کے نئے سفر میں تجھے کسی روز یاد آئیں
تو ایک اک حرف جی اٹھے گا پہن کے انفاس کی قبائیں
اداس تنہائیوں کے لمحوں میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں

مجھے ترے درد کے علاوہ بھی اور دکھ تھے ، یہ جانتا ہوں
ہزار غم تھے جو زندگی کی تلاش میں تھے ، یہ جانتا ہوں
مجھے خبر ہے کہ تیرے آنچل میں درد کی ریت چھانتا ہوں
مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر یہ ریت رنگِ حنا بنی ہے
یہ زخم گلزار بن گئے ہیں یہ آہِ سوزاں گھٹا بنی ہے
یہ درد موجِ صبا ہوا ہے ، یہ آگ دل کی صدا بنی ہے

اور اب یہ ساری متاعِ ہستی، یہ پھول، یہ زخم سب ترے ہیں
یہ دکھ کے نوحے ، یہ سکھ کے نغمے ، جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں
جو تیری قربت، تری جدائی میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں
وہ تیرا شاعر، ترا مغنی، وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں
وہ جس کے انداز خسروانہ تھے اور ادائیں غریب سی تھیں
وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں
نہ پوچھ اس کا کہ وہ دیوانہ بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے
وہ کوہکن تو نہیں تھا لیکن کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے
وہ تھک چکا ہے اور اس کا تیشہ اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔