‏میر تقی میر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏میر تقی میر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 29 اگست، 2013

میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی​

میر دریا ہے سنے شعر زبانی اس کی​
اللہ اللہ رے طبیعت کی روانی اس کی​
​
خاطرِ بادیہ سے دیر میں جاوے گی کہیں​
خاک مانند بگولے کے اڑانی اس کی​
​
ایک ہے عہد میں اپنے وہ پراگندہ مزاج​
اپنی آنکھوں میں نہ آیا کوئی ثانی اس کی​
​
مینہ تو بوچھار کا دیکھا ہے برستے تم نے​
اسی انداز سے تھی اشک فشانی اس کی​
​
بات کی طرز کو دیکھو تو کوئی جادو تھا​
پر ملی خاک میں کیا سحر بیانی اس کی​
​
کر کے تعویذ رکھیں اس کو بہت بھاتی ہے​
وہ نظر پاؤں پہ وہ بات دوانی اس کی​
​
اس کا وہ عجز تمھارا یہ غرورِ خوبی​
منتیں ان نے بہت کیں پہ نہ مانی اس کی​
​
کچھ لکھا ہے تجھے ہر برگ پہ اے رشکِ بہار​
رقعہ واریں ہیں یہ اوراق خزانی اس کی​
​
سر گذشت اپنی کس اندوہ سے شب کہتا تھا​
سو گئے تم نہ سنی آہ کہانی اس کی​
​
مرثیے دل کے کئی کہہ کے دیے لوگوں کو​
شہر دلّی میں ہے سب پاس نشانی اس کی​
​
میان سے نکلی ہی پڑتی تھی تمھاری تلوار​
کیا عوض چاہ کا تھا خصمیِ جانی اس کی​
​
آبلے کی سی طرح ٹھیس لگی، پھوٹ بہے​
درد مندی میں گئی ساری جوانی اس کی​
​
اب گئے اس کے جز افسوس نہیں کچھ حاصل​
حیف صد حیف کہ کچھ قدر نہ جانی اس کی​

پیر، 8 اپریل، 2013

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا

جس سر کو غرور آج ہے یاں تاج وری کا
کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحہ گری کا

شرمندہ ترے رخ سے ہے رخسار پری کا
چلتا نہیں کچھ آگے ترے کبک دری کا

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا یاں راہ میں ہر سفری کا

زنداں میں بھی شورش نہ گئی اپنے جنوں کی
اب سنگ مداوا ہے اس آشفتہ سری کا

ہر زخم جگر داورمحشر سے ہمارا
انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا

اپنی تو جہاں آنکھ لڑی پھر وہیں دیکھو
آئینہ کو لپکا ہےپریشان نظری کا

آمد موسم گل ہم کو تہ بال ہی گزرے
مقدور نہ دیکھا کبھو بے بال و پری کا

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا

ٹک میر جگر سوختہ کی جلد خبر لے
کیا یار بھروسہ ہے چراغ سحری کا

ہفتہ، 30 مارچ، 2013

آجائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں

آجائیں ہم نظر جو کوئی دم بہت ہے یاں
مہلت ہمیں بسانِ شرر کم بہت ہے یاں

یک لحظہ سینہ کوبی سے فرصت ہمیں نہیں
یعنی کہ دل کے جانے کا ماتم بہت ہے یاں

ہم رہ روانِ راہِ فنا دیر رہ چکے
وقفہ بسانِ صبح کوئی دم بہت ہے یاں

اس بت کدے میں معنی کا کس سے کریں سوال
آدم نہیں ہے، صورتِ آدم بہت ہے یاں

عالم میں لوگ ملنے کی گوں اب نہیں رہے
ہر چند ایسا ویسا تو عالم بہت ہے یاں

ویسا چمن سے سادہ نکلتا نہیں کوئی
رنگینی ایک اور خم و چم بہت ہے یاں

اعجازِ عیسوی سے نہیں بحث عشق میں
تیری ہی بات جانِ مجسم بہت ہے یاں

میرے ہلاک کرنے کا غم ہے عبث تمہیں
تم شاد زندگانی کرو، غم بہت ہے یاں

دل مت لگا رُخِ عرق آلودہ یار سے
آئینے کو اُٹھا کہ زمیں نم بہت ہے یاں

شاید کہ کام صبح تک اپنا کھنچے نہ میر
احوال آج شام سے درہم بہت ہے یاں

ہفتہ، 8 دسمبر، 2012

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے

پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

آگے اس متکبر کے ہم خدا خدا کیا کرتے ہیں
کب موجود خدا کو وہ مغرور خود آرا جانے ہے

عاشق سا تو سادہ کوئی اور نہ ہوگا دنیا میں
جی کے زیاں کو عشق میں اس کے اپنا دارا جانے ہے

چارہ گری و بیمارئ دل کی رسمِ شہرِ حسن نہیں
ورنہ دلبر ناداں بھی اس درد کا چارا جانے ہے

مہر و وفا و لطف و عنایت ایک سے واقف ان میں نہیں
اور تو سب کچھ طنز و کنایہ رمز و اشارا جانے ہے

عاشق تو مردہ ہے ہمیشہ اٹھتا ہے دیکھے اسے
یار کے آ جانے کو یکا یک عمر دوبارا جانے ہے

تشنہ خوں ہے اپنا کتنا میر بھی ناداں تلخی کش
دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے

اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا

اس عہد میں الٰہی محبت کو کیا ہوا
چھوڑا وفا کو اُن نے ، مروت کو کیا ہوا

اُمیدوار، وعدۂ دیدار مر چلے
آتے ہی آتے یارو قیامت کو کیا ہوا

کب تک قطلمِ آہ بھلا مرگ کے تئیں
کچھ پیش آیا واقعہِ رحمت کو کیا ہوا

اُس کے آگے پر ایسے گئی دل سے ہم نشین
معلوم بھی ہوا نہ کہ طاقت کو کیا ہوا

بخشش نے مجھ کو ابرکرم کیا جمال
اے چشم جوش اشکِ ندامت کو کیا ہوا

جاتا ہے یار تیغ بکف غیر کی طرف
اے کشتہ ستم تری غیرت کو کیا ہوا

تھی صعب عاشقی کی ہدایت ہی میر پر
کیا جانیئے کہ حالِ نہایت کو کیا ہوا
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔