بہادر شاہ ظفر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بہادر شاہ ظفر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 17 نومبر، 2013

پس مرگ میرے مزار پر جو دیا کسی نے جلا دیا

پس مرگ میرے مزار پر جو دیا کسی نے جلا دیا
اسے آہ دامنِ باد نے، سر شام ہی سے بجھا دیا

مجھے دفن کرنا تو جس گھڑی، تو یہ اس سے کہنا کہ ائے پری
وہ جو تیرا عاشق زار تھا، تہہ خاک اسے دبا دیا

دم غسل سے مرے پیشتر، اسے ہم دموں نے یہ سوچ کر
کہیں جائے اس کا نہ دل دہل، میری لاش پر سے ہٹا دیا

میری آنکھ جھپکی تھی اک پل، میرے دل نے چہا کہ اُٹھ کر چل
دل بے قرار نے اور میاں وہیں چٹکی کے کے جگا دیا

ذرا ان کی شوخی تو دیکھیے لئے زلف زخم شدہ ہاتھ میں
میرے پیچھے آئے دبے دبے مجھے سانپ کہہ کے ڈرا دیا

میں نے دل دیا، میں جاں دی، مگر آہ! تو نہ نہ قدر کی
کسی بات کو جو کہا کبھی، اسے چٹکیوں میں اُڑا دیا
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔