‏انشائیے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏انشائیے لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 3 اگست، 2014

خسارہ

راستی، راستائی اور راستینی تلاش کرنے والوں کے لیے یہ ایک پُر آشوب زمانہ ہے۔ دلوں میں تاریکی پھیلی ہوئی ہے۔ دلیلوں پر درہمی کی اُفتاد پڑی ہے اور دانش پر دیوانگی کے دورے پڑ رہے ہیں۔ نیکی اور بدی اس طرح کبھی خلط ملط نہ ہوئی تھیں۔ اِدھر یا اُدھر، جدھر بھی دیکھو، ایک ہی سا حال ہے۔ تیرہ درونی نے اپنی دستاویز درست کی ہے اور کجی، کج رائی اور کج روی کا دستور جاری کیا گیا ہے۔ جو سمجھانے والے تھے، وہ اپنے افادات کی مجلسوں میں بُرائی سمجھا رہے ہیں۔ بُرائی سوچی جا رہی ہے اور بُرا چاہا جا رہا ہے۔ خیال اور مقال کی فضا اس قدر زہرناک کبھی نہ ہوئی تھی۔ انسانی رشتے اتنے کم زور کبھی نہ پڑے تھے۔

ایک اور فتنہ برپا ہوا ہے، وہ ادھوری سچائیوں کا فتنہ ہے۔ اس نے انسانیت کی صورت بگاڑ کر رکھ دی ہے۔ ایک آنکھ، ایک کان، اور ایک ٹانگ کی انسانیت زندگی کے حُسنِ تناسب کا نادر نمونہ ٹھہری ہے۔ یہی وہ انسانیت ہے جس کے باعث اس دور میں ہماری تاریخ کے سب سے بدترین واقعات ظہور میں آئے ہیں۔ گمان گزرتا ہے کہ یہ انسانوں کی نہیں، نسناسوں کی دنیا ہے اور ہم سب نسناس ہیں، جسے دیکھو وہ غیر انسانی لہجے میں بولتا ہوا سُنائی دیتا ہے۔

سماعتوں پر شیطانی شطحیات نے قبضہ جما لیا ہے۔ یہاں جو بھی کان دھر کر سُن رہا ہے، وہ کانوں کے گناہ کا مرتکب ہو رہا ہے۔ سو، چاہیے کہ ایسے میں نیک سماعتیں اعتزال اختیار کریں۔ اپنی نیتوں کی نیکی پر سختی سے قائم رہو اور اس کی ہر حال میں حفاظت کرو کہ تمہارے پاس یہی ایک متاع باقی رہ گئی ہے اور یہی تمہاری سب سے قیمتی متاع بھی ہے۔
نفرتوں کی گرم بازاری اور محبتوں کی قحط سالی میں دُکھی انسانیت کے دُکھ اور بھی بڑھ گئے ہیں۔ اس بیمار کے تیمارداروں اور غم گساروں کی تعداد آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ اچھائی اور برائی میں ایک عجیب معاملت ہوئی ہے۔ اور وہ یہ کہ انہوں نے اپنے ناموں کا آپس میں تبادلہ کر لیا ہے۔ اب ہر چیز اپنی ضد نظر آتی ہے۔ علم، جہل پر ریجھ گیا تھا اور جہل، علم کے خطاب پر بُری طرح لوٹ پوٹ تھا۔ سو، دونوں ہی نے ایثار سے کام لیا۔

انسان کو اس دور میں وہ وہ منفعتیں حاصل ہوئی ہیں جن پر ہر دور کا انسان رشک کرے۔ پر اس دور کا خسارہ بھی اس قدر ہی شدید ہے اور وہ یہ کہ انسانوں کے اس انبوہ میں خود انسان ناپید ہوگیا ہے۔ جس مزاج اور جس قماش کی دنیا میں ہم رہتے ہیں، اس کا حال تو یہی ہے اور یہی ہونا بھی تھا۔ کوئلے کی کمائی کالک کے سوا اور کیا ہے؟ اندرائن کے پیڑ سے کیا کبھی انگور کے خوشے بھی توڑے گئے ہیں؟

عالمی ڈائجسٹ، نومبر1971
(یہی انشائیہ سسپنس اگست 2001 میں "بڑا خسارہ" کے عنوان سے شائع ہوا۔)

ہفتہ، 2 اگست، 2014

اعتماد

میں کوئی اور رائے رکھتا ہوں اور تم کوئی اور رائے رکھتے ہو۔ میں کسی اور جماعت کے ساتھ ہوں اور تم کسی اور جماعت کے ساتھ ہو۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جسے کبھی برا سمجھا گیا ہو یا برا سمجھا جانا چاہیے، یہ تو سچ کو تلاش کرنے کا ایک طور ہے، میں سچ کود ائیں طرف تلاش کرتا ہوں اور تم سچ کو بائیں طرف تلاش کرتے ہو، پر یہاں کا جو طور ہے، جو طور رہا ہے، وہ عجب کچھ ہے۔

یہاں ایک دوسرے سے جدا رائے رکھنے کا مطلب ہے ایک دوسرے کا دشمن ہونا۔ ایک دوسرے پر کسی بھی معاملے میں اعتماد نہ کرنا۔ کیا عقل و ہوش کی سلامتی اور سیاست کے یہی معنی ہیں۔ ایک جماعت کسی بھی معاملے میں دوسری جماعت پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو ملک کا دشمن اور قوم کا غدار خیال کرتے ہیں۔ ان دو لفظوں کے سوا اپنے حریف کے لیے ہمارے پاس اور کوئی لفظ نہیں ہے۔

بات یہ ہے کہ ہم میں سے ہر گروہ یہ گمان رکھتا ہے کہ اس کائنات کی ساری سچائیاں اور اچھائیاں اس کی جیبوں میں جمع ہو گئی ہیں۔ وہ اس زمین کا سب سے منتخب، محبوب اور برگزیدہ گروہ ہے۔ اور تاریخ نے آج تک جو سفر طے کیا ہے، اس کی غرض اور غایت ہی یہ تھی کہ اس منتخب، محبوب اور برگزیدہ گروہ کو اس دور کے حوالے کر سکے اور بس۔

تم کون ہو اور ہم کون ہیں؟ اور ہمارے گمان، ہمارے خیال اور ہماری رائے کی بھلا حقیقت ہی کیا ہے۔ تمہارے ذہن کے کشکول میں آخر وہ کون سی دلیل اور وہ کون سی حجت ہے جس کے توڑ کے لیے ہمارے ذہن کے کشکول میں کوئی دلیل اور کوئی حجت موجود نہ ہو اور ہمارے ذہن کے کشکول میں آخر وہ کون سی دلیل اور وہ کون سی حجت ہے جس کے توڑ کے لیے تمہارے ذہن کے کشکول میں کوئی دلیل اور کوئی حجت موجود نہ ہو۔

کیا ہمارے باطن سے یا تمہارے باطن سے الہام کا کوئی رشتہ پایا جاتا ہے؟ ہم میں سے آخر وہ کون ہے جو یہ دعویٰ کر سکے کہ ہم نے جب بھی سانس لیا تو سچ میں سانس لیا۔ ہم نے جب بھی سوچا تو سچ میں سوچا۔ سچ کےساتھ سوچا، سچ کے لیے سوچا اور اول سے آخر تک سچ ہی سوچا؟

سوچو اور سوچنے کی نیک عادت ڈالو کہ دوسرے جو کچھ سوچ رہے ہیں، وہ بھی سچ ہو سکتا ہے، نہ تم آسمان سے اترے ہو اور نہ تمہارے حریف۔ تمہیں وجود میں لانے کے لیے زمین اور آسمان نے اتنی ہی مشقت اٹھائی ہے جتنی مشقت، تمہارے حریفوں کو وجود میں لانے کے لیے اٹھائی ہے۔

ایسا کیوں ہے کہ تم کسی بھی رائے اور کسی بھی خیال کے بارے میں اپنے سوا کسی دوسرے پر اعتماد کرنے کی کوئی بھی اہلیت نہیں رکھتے؟ ایسا کیوں ہے کہ سچ اور سچائی کو تم نے بس اپنی ہی دستاویز کا ایک گوشوارہ سمجھ رکھا ہے؟ اور میرا یہی سوال تمہارے حریف سے بھی ہے۔

ایک ہی حق تو ہے جو تم بھی مانگتے ہو اور تمہارا حریف بھی مانگتا ہے۔ اور وہ حق ہے رائے رکھنے اور اسے ظاہر کرنے کا۔ تم وہ رائے رکھو جو تمہیں درست معلوم ہوتی ہو اور دوسروں کو وہ رائے رکھنے کی آسانی فراہم کرو جو انہیں درست معلوم ہوتی ہو۔

اور تم دونوں اس معاملے میں ایک دوسرے پر اعتماد کرو کہ جو کچھ دوسرا کہہ رہا ہے وہ اس کی رائے ہے، ریاکاری نہیں اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ تمہاری رائے ہے رُوبا نہیں۔

اگر یہ اعتماد باقی نہ رکھا گیا اور اس بارے میں بھی بے اعتمادی کو کام میں لایا گیا تو بولو اور بتاؤ کہ پھر اس بات کا فیصلہ روئے زمین پر آخر کون کرے گا کہ جو تمہارا خیال ہے، وہ تو خیال ہے اور جو دوسرے کا خیال ہے وہ نیت کی خرابی اور خلل ہے۔ ایک دوسرے کے بارے میں اعتماد کو کام میں لاؤ اور پھر اپنے اپنے دعوے اور اپنی اپنی دلیلوں کی بساط بچھاؤ۔

بحث ہونا چاہیے اور جاری رہنا چاہیے۔ شکوہ کس بات کا ہے؟ شکوہ ہی اس بات کا ہے کہ یہاں بحث نہیں ہوتی۔ ہم لوگ ابھی تک بحث کے خوگر نہیں ہوئے ہیں۔ ہم تو بدگوئی اور بدبحثی کی عادت میں مبتلا ہیں۔

بحث، ذہن کی دانش مندانہ اور دانش جویانہ حالت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ اور ہم ذہن کی دانش مندانہ اور دانش جویانہ حالت سے محروم ہیں، ہم جب تک ذہن کی اس حالت سے محروم رہیں گے، اس وقت تک ہمارے اور سچائی کی خواہش کے درمیان کوئی رشتہ قائم نہیں ہو سکتا۔

آؤ ایک دوسرے پر اعتماد کر کے اپنے اور سچائی کی خواہش کے درمیان وہ رشتہ قائم کریں جو شائستگی کی پہچان ہے اور بحث شروع کریں، وہ بحث جو سچائی تک پہنچاتی ہے۔

(سسپنس ڈائجسٹ، دسمبر ۱۹۸۹)

سب سے پہلے - جون ایلیا

جو سماج افلاس اور جہالت کے دردناک عذاب میں مبتلا ہو وہ زندگی کا کوئی صحت مند خواب نہیں دیکھ سکتا اور نہ شاید اس کا حق ہی رکھتا ہے۔ ہم بار بار تعمیر و ترقی کا ذکر کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ تعمیر و ترقی کی باتیں اسی قوم کو زیب دیتی ہیں جو معاشی استحکام اور تعلیمی ترقی کے ایک خاص نقطے تک پہنچ چکی ہو۔ اس سے پہلے تعمیر و ترقی کے امکانات پر غور کرنا دماغی عیاشی اور ذہنی بدکاری کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہم قومی حیثیت سے افلاس اور جہالت کے جس نقطے پر کھڑے ہیں وہاں سے تعمیر و ترقی کی منزل اتنی دور ہے، اتنی دور ہے کہ اس کے بارے میں سوچنا بھی اپنے آپ کو ہمت شکنی اور زبوں ہمتی کے آزار میں مبتلا کرنا ہے۔ ہم اپنی اس پسماندگی و درماندگی کے سلسلے میں قابلِ ملامت بھی ہیں اور قابلِ رحم بھی اور ایک حد تک قابلِ معافی بھی کیونکہ ہماری موجودہ زندگی کے پس منظر میں صرف غلامی ہی کی ایک صدی نہیں سماجی، اخلاقی، معاشی اور تعلیمی انحطاط کی بھی کئی صدیاں شامل ہیں اور ہمیں ماضی کے اس زبردست نقصان کی تلافی کے لیے جو مہلت ملی ہے وہ یقیناً بہت مختصر ہے اور اسی مختصر مہلت میں ہمیں صدیوں اور نسلوں کے قرضے چکانا ہیں لیکن اس معقول عذر کے باوجود ہم اپنی غیر ذمے داریوں کا کوئی جواز پیش نہیں کر سکتے۔ یہ عذر صرف اسی صورت میں قابلِ سماعت تھا جب ہم نے اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کیا ہوتا۔ اصلاحِ حال کے لیے ہر وہ کوشش کی ہوتی جو ممکن تھی لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ یہی نہیں بلکہ قوم کے بعض طبقوں نے تو اس نازک دور میں وہ طرزِ عمل اختیار کیا اور اختیار کیے ہوئے ہیں جس کو سہہ لینا ایک نوآزاد، پس ماندہ اور پریشاں حال قوم کے لیے کسی طرح بھی ممکن نہیں۔

اس موقع پر کس کس سے مواخذہ کیا جائے۔ کس کس کا نام لیا جائے کہ یہ سیاہ نامہ بہت طویل الذیل ہے مگر ایک خاص طبقے کا ذکر کیے بغیر چارہ بھی نہیں۔ ہمارا اشارہ قوم کے دولت مند طبقے کی طرف ہے۔ ہمارے اس رعایت یافتہ اور برگزیدہ طبقے نے آزادی کے بعد جس مجنونانہ اور مجرمانہ ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ ان حضرات نے لکھ پتی سے کروڑ پتی بننے کی جو شاندار مہم چند سال میں سر کر لی ہے اسے دوسرے شاید صدیوں میں بھی سر نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں اگر کسی طبقے نے اپنی غیر معمولی اور قابلِ رشک صلاحیتوں سے دنیا کو مبہوت کر ڈالا ہے تو وہ یہی طبقہ ہے۔ اس کی موجودگی میں جو لوگ علمی، ادبی، تہذیبی اور سماجی میدانوں میں پاکستانی قوم کی صلاحیتوں کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں، ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ غلطی پر ہیں اور انہیں اس ہونہار قوم کا کوئی عرفان حاصل نہیں۔ اگر اس قوم کی استعداد اور کارکردگی کا اندازہ لگانا ہے تو اس کے لیے دولت کشی اور منفعت اندوزی کے شعبے کا انتخاب کرنا چاہیے کہ یہی تو ایک شعبہ ہے جس میں ہماری قوم نے حیران کن فتوحات انجام دی ہیں اور محیر العقول معجزے دکھائے ہیں۔ سماج کا یہی وہ ادارہ ہے جس کے حوصلہ مند نمائندوں نے ایک ایک رات میں بنجر زمینوں سے محل اگائے ہیں اور ایک ایک دن میں دولت و ثروت کی فصلیں کاٹی ہیں۔ یہ بات انہی لوگوں نے ثابت کی کہ آزادی ایک نعمت ہے اور غلامی ایک لعنت۔ اگر یہ ارجمندانِ دولت نہ ہوتے تو پاکستان میں کوئی بھی آزادی کی نعمتوں اور برکتوں کا قائل نہ ہوتا۔ ہمیں اس موقع پر عبارت آرائی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارا فرض ہے کہ اس ضمن میں پوری متانت اور سنجیدگی سے کام لیں، اس گروہ نے سماج کی صحت مند قدروں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ لوگ 'زرگری' اور زرپرستی کے علاوہ کوئی قدر نہیں مانتے، ان کا صرف ایک نصب العین ہے یعنی دولت کھینچنا، قوم جہنم میں جائے انہیں تو اپنے کام سے کام ہے۔ زندگی میں ان کا سب سے بڑا ہتھیار دولت ہے اور سب سے مضبوط سپر جہالت، ان کے نزدیک تعمیر و ترقی کا مفہوم یہ ہے کہ کوٹھیوں کے نئے نئے ڈیزائنوں اور کاروں کے نئے نئے ماڈلوں کے ذریعے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی جائے۔

اب سوچنا یہ ہے کہ پاکستان کی فاقہ کش، فلاکت زدہ اور درماندہ قوم ان مجنونانہ حرکات اور مجرمانہ رجحانات کی آخر کہاں تک متحمل ہو سکتی ہے۔ واقعی ہمیں اپنی قوتِ برداشت کا اندازہ لگانا چاہیے۔ جس ملک کی ۷۳ فیصدی یا غالباً اس سے بھی کچھ زیادہ آبادی کے پاس رہنے کو گھر، پہننے کو کپڑا اور کھانے کو روٹی نہ ہو کیا اس ملک کے چند افراد کو ان عیاشیوں کا حق دیا جا سکتا ہے؟ اس سلسلے میں نہ کسی بحث کی گنجائش ہے اور نہ کسی سیاسی نظریے یا سماجی فلسفے کا حوالہ دینے کی ضرورت، یہ تو ایک بالکل صاف اور سادہ سی بات ہے۔ اس ملک کو آزاد کرانے میں قوم کے ہر طبقے نے حصہ لیا تھا۔ پاکستان پوری قوم کی قربانیوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اسے بھی چھوڑیے، اس بات کا جواب دیجیے کہ وہ کون سی منطق اور کون سا نظامِ اخلاق ہے جس کے پیشِ نظر چند بے ضمیر، موقع پرست اور قابو یافتہ افراد نے پوری قوم کو لوٹنے اور کھسوٹنے کا حق پا لیا ہے اور سماج میں ان تباہ کن اور ہلاکت آفریں رجحانات کو فروغ دینے کی اجازت حاصل کر لی ہے جن کی موجودگی میں ایک شریف، صحت مند اور باضمیر سماج کے قیام کا تصور دیوانے کے خواب سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

یہ دور پاکستان کی زندگی کا بڑا نازک دور ہے۔ اگر اس دور میں سماج کی منفی قدروں کو استحکام حاصل ہو گیا تو یہ ملک نفسیاتی، اخلاقی، تہذیبی اور سیاسی اعتبار سے دیوالیا ہو کر رہ جائے گا اور پھر اس کا ازالہ کسی طرح بھی ممکن نہ ہو سکے گا، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ قوم کے بااثر طبقے نے ان زہرناک اور ہلاکت خیز قدروں کو سماجی زندگی میں بنیادی حیثیت دے دی ہے یہاں تک کہ اب ان قدروں کو حوالے کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے۔ چنانچہ آج پاکستان میں امیر اور غریب جیسے شرمناک الفاظ گفتگو میں بار بار استعمال کیے جاتے ہیں اور گویا اخلاقی اور سماجی طور پر اس بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ پاکستان میں دو قومیں آباد ہیں۔ ایک غریب اور ایک امیر، ایک کرسی نشین اور ایک خیمہ بردار۔ وہ قوم جو زندگی کا کوئی اعلیٰ تصور نہ رکھتی ہو، جو شرمناک جہالت اور المناک غربت میں مبتلا ہو، اس کے حق میں بااثر طبقے کا یہ اندازِ نظر اور طرزِ عمل نفسیاتی طور پر جس قدر مہلک ثابت ہوگا اس کا تصور مشکل نہیں۔ آج ہمارے ملک میں امیر سے امیر ترین بننے کی جو دوڑ ہو رہی ہے اس نے پوری قوم کے دماغ کو ماؤف اور ذہن کو خراب کر دیا ہے۔ جو لوگ ملک کی ذہنی تعمیر و ترقی سے دلچسپی رکھتے ہیں، جنہیں اس قوم کے مستقبل سے ذرا بھی ہمدردی ہے انہیں اس صورتِ حال کے خلاف سخت احتجاج کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں اہلِ قلم کا فرض ہے کہ وہ اعلیٰ سماجی تصورات اور اقدار کو فروغ دینے کی کوشش کریں لیکن وہ تو اپنا یہ فرض پہلے ہی سے انجام دے رہے ہیں۔ قوم میں یہی تو ایک طبقہ ہے جس نے اپنے فرائض کو کبھی فراموش نہیں کیا، جس نے اس ملک میں آج تک صرف فرائض کی زندگی گزاری ہے۔

کسی اعلیٰ تصورِ حیات اور سماجی نصب العین کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی لہذا اس سلسلے میں قوم کے ذمے دار افراد کو سب سے پہلے جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ افلاس اور جہالت کے خلاف ایک ہمہ گیر اور طاقت ور مہم شروع کی جائے کیونکہ ہم اس وقت معاشی پستی، سماجی زبوں حالی اور تعلیمی پسماندگی کی جس منزل میں ہیں وہاں کوئی اعلیٰ تصورِ حیات اور کوئی بلند نصب العین ہمارے درد کا درماں نہیں بن سکتا۔ تعمیر و ترقی کا سفر اسی وقت شروع ہو سکتا ہے جب ہم موجودہ منزل سے کافی دور نکل جائیں۔ یہ ہے وہ بنیادی مسئلہ جس پر ہمارے اربابِ اقتدار کو سوچنا اور عمل کرنا ہے ورنہ خوش آئند باتیں کرتے رہنا ایک دلچسپ مشغلہ سہی لیکن ایک ہوش مندانہ اور نتیجہ خیز طریقِ کار ہرگز نہیں۔ قوم کو شاندار کوٹھیوں اور قیمتی کاروں کی کوئی ضرورت نہیں، اسے اسکولوں، کالجوں، تربیت گاہوں، شفاخانوں، لہلہاتے کھیتوں اور کارخانوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس انداز میں سوچنا ہے۔ سوچنا ہی نہیں عمل کرنا ہے کہ ان مسئلوں کے سامنے باقی تمام مسئلے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

(انشا، جولائی ۱۹۶۱)
(یہی انشائیہ عالمی ڈائجسٹ، مارچ ۱۹۶۴ میں 'نصب العین' اور سسپنس ڈائجسٹ، ستمبر ۲۰۰۲ میں 'اندازہ' کے عنوان سے شائع ہوا)

اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔