‏نظیر اکبر آبادی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏نظیر اکبر آبادی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 14 مارچ، 2015

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی

جب پھاگن رنگ جھمکتے ہوں تب  دیکھ بہاریں ہولی کی
اور دف کے شور کھڑکتے ہوں  تب  دیکھ بہاریں ہولی کی
پریوں کے رنگ دمکتے ہوں  تب  دیکھ بہاریں ہولی کی
خم، شیشے، جام، جھلکتے ہوں  تب  دیکھ بہاریں ہولی کی

محبوب نشے میں چھکتے ہوں  تب  دیکھ بہاریں ہولی کی

ہو ناچ رنگیلی پریوں کا بیٹھے ہوں گل رو رنگ بھرے
کچھ بھیگی تانیں ہولی کی کچھ ناز و ادا کے ڈھنگ بھرے
دل بھولے دیکھ بہاروں کو اور کانوں میں آہنگ بھرے
کچھ طبلے کھڑکیں رنگ بھرے کچھ عیش کے دم منہ چنگ بھرے

کچھ گھنگھرو تال چھنکتے ہوں  تب  دیکھ بہاریں ہولی کی

سامان جہاں تک ہوتا ہے اس عشرت کے مطلوبوں کا
وہ سب سامان مہیا ہو اور باغ کھلا ہو خوابوں کا
ہرآن شرابیں ڈھلتی ہوں اور ٹھٹھ ہو رنگ کے ڈوبوں کا
اس عیش مزے کے عالم میں ایک غول کھڑا محبوبوں کا

کپڑوں پر رنگ چھڑکتے ہوں  تب  دیکھ بہاریں ہولی کی

گل زار کھلے ہوں پریوں کے اور مجلس کی تیاری ہو
کپڑوں پر رنگ کے چھینٹوں سے خوش رنگ عجب گل کاری ہو
منہ لال، گلابی آنکھیں ہوں، اور ہاتھوں میں پچکاری ہو
اس رنگ بھری پچکاری کو انگیا پر تک کر ماری ہو

سینوں سے رنگ ڈھلکتے ہوں  تب  دیکھ بہاریں ہولی کی

اس رنگ رنگیلی مجلس میں وہ رنڈی ناچنے والی ہو
منہ جس کا چاندا کاٹکڑا ہو اور آنکھ بھی مے کی پیالی ہو
بدمست بڑی متوالی ہو ہر آن بجاتی تالی ہو
مے نوشی ہو بےہوشی ہو "بھڑوے" کی منہ میں گالی ہو

بھڑوے بھی، بھڑوا بکتے ہوں  تب  دیکھ بہاریں ہولی کی

اور ایک طرف دل لینے کو محبوب بھویوں کے لڑکے
ہرآن گھڑی گت بھرتے ہوں  کچھ گھٹ گھٹ کے کچھ بڑھ بڑھ کے
کچھ ناز جتاویں لڑ لڑ کے کچھ ہولی گاویں اڑ اڑ کے
کچھ لچکے شوخ کمر پتلی کچھ ہاتھ چلے کچھ تن بھڑکے

کچھ کافر نین مٹکتے ہوں  تب  دیکھ بہاریں ہولی کی

یہ دھوم مچی ہو ہولی کی اور عیش مزے کا جھکڑ ہو
اس کھینچا کھینچ گھسیٹی پر بھڑوے رنڈی کا پھکڑ ہو
معجون، شرابیں، ناچ، مزہ، اور ٹکیا سلفا ککڑ ہو
لڑ بھڑ کے نظؔیر بھی نکلا ہو، کیچڑ میں لتھڑ پتھڑ ہو

جب ایسے عیش مہکتے ہوں  تب  دیکھ بہاریں ہولی کی

جمعہ، 7 دسمبر، 2012

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

ٹُک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں، مت دیس بدیس پھرے مارا
قزٌاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقٌارا
کیا بدھیا، بھینسا، بیل، شتر، کیا گونی پلا ، سر بھارا
کیا گیہوں ، چاول، موٹھ ، مٹر ، کیا آگ، دھواں، کیا انگارا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

گر تُو ہے لکھی بنجارا ، اور کھیپ بھی تیری بھاری ہے
اے غافل تجھ سے بھی چڑھتا ایک اور بڑا بیوپاری ہے
کیا شکٌر ، مصری، قند، گری، کیا سانبھر میٹھا، کھاری ہے
کیا داکھ ، منقٌا ، سُونٹھ ، مرچ، کیا کیسر، لونگ، سپاری ہے 

سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

یہ بدھیا لادے، بیل بھرے، جو پُورب پچھٌم جاوے گا
یا سُود بڑھا کر لاوے گا، یا ٹوٹا گھاٹا پاوے گا
قزٌاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گا
دھن دولت، نانی، پوتا کیا، اک کنبہ کام نہ آوے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

جب چلتے چلتے رستے میں یہ گُون تیری ڈھل جاوے گی
اک بدھیا تیری مٹٌی پر پھر گھاس نہ چرنے آوے گی
یہ کھیپ جو تُو نے لادی ہے، سب حصوں میں بٹ جاوے گی
دھی، پُوت، جنوائی، بیٹا کیا، بنجارن پاس نہ آوے گی
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

کچھ کام نہ آوے گا تیرے، یہ لعل، زمٌرد، سیم و زر
جب پُونجی بات میں بکھرے گی، پھر آن بنے گی جان اوپر
نقٌارے، نوبت، بان، نشاں، دولت، حشمت، فوجیں، لشکر
کیا مسند، تکیہ، مِلک، مکاں، کیا چوکی، کرسی، تخت، چھپٌر
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

ہر آن نفع اور ٹوٹے میں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن؟
ٹک غافل دل میں سوچ ذرا، ہے ساتھ لگا تیرے دشمن
کیا لونڈی، باندی، دائی، دوا، کیا بندا، چیلا، نیک چلن
کیا مندر، مسجد، تال، کنویں، کیا گھاٹ سرا، کیا باغ، چمن
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

کیوں جی پر بوجھ اٹھاتا ہے، ان گُونوں بھاری بھاری کے ؟
جب موت کا ڈیرا آن پڑا، پھر دُونے ہیں بیوپاری کے
کیا ساز، جڑاؤ، زر، زیور، کیا گوٹے دھان کناری کے
کیا گھوڑے زین سنہری کے، کیا ہاتھی لال عماری کے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

مغرور نہ ہو تلواروں پر، مت پھول بھروسے ڈھالوں کے
سب پٌٹا توڑ کے بھاگیں گے، منہ دیکھ اجل کے بھالوں کے
کیا ڈبٌے موتی ہیروں کے، کیا ڈھیر خزانے مالوں کے
کیا بُغچے تاش مُشجٌر کے، کیا تختے شال مشالوں کے
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

جب مرگ پھرا کر چابُک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گا
کوئی تاج سمیٹے گا تیرا، کوئی گُون سیئے اور ٹانکے گا
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تُو خاک لحد کی پھانکے گا
اُس جنگل میں پھر آہ (نظیر) اک بُھنگا آن نہ جھانکے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا، جب لاد چلے گا بنجارا

سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔