صوفیانہ کلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
صوفیانہ کلام لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 24 فروری، 2013

بلہے نوںسمجھاون آئیاں، بھیناں تے بھرجائیاں

بلہے نوںسمجھاون آئیاں، بھیناں تے بھرجائیاں

من لے بلھیا ساڈا کہنا، چھڈ دے پلا رائیاں
آل نبی اولاد علی نوں توں کیوں لیکاں لائیاں؟

جیہڑا سانوں سید سدّے دوزخ ملن سزائیاں
جو کوئی سانوں رائیں آکھے، بہشتی پینگاں پائیاں

رائیں، سائیں سبھنی تھائیں، رب دیاں بے پروائیاں
سوہنیاں پرے ہٹائیاں، تے کوجھیاں لے گل لائیاں

جے توں لوڑیں باغ بہاراں، چاکر ہو جا رائیاں
بلہے شاہ دی ذات کیہ پچھنی؟ شاکر ہو رضائیاں

بدھ، 26 دسمبر، 2012

کوئی محرم راز نی مل دا

کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نی مل دا

منہ دُھوڑ ، مٹی سِر پایُم۔ سارا ننگ نمُوذ ونجایُم
کوئی پُچھن نہ ویہڑے آیا، ہتھوں اُلٹا عالم کِھلدا
کوئی محرم راز نی مِلدا

آیا بار برہوں سر بھاری, لگی ہو ، ہو شہر خواری
اونجیں عمر گزاریُم ساری، نہ پایُم ڈس منزل دا
کوئی محرم راز نی ملدا

 دل یار کیتے کُر لاوے, تڑ پھاوے تے غم کھاوے
ڈکھ پاوے سول نبھاوے, ایہو طور تیڈے بیدل دا
کوئی محرم راز نی ملدا


کئی سہنس طبیب کماون, سے پڑیاں جھول پلاون
میڈے دلا دا بھید نہ پاون, پووے فرق نہیں ہک تِل دا
کوئی محرم راز نی ملدا

پُنوں ہود نہ کھڑ مکلایا۔ چھڈ کلھڑی کیچ سدھایا
سوہنے جان، پچھان بھلایا، کُوڑا عذر نبھایُم گِھل دا
کوئی محرم راز نی ملدا

سن لیلیٰ دیہانہہ پکارے, تیڈا مجنوں زار نزارے
سوہنا یار تو نے ہک وارے, کڈیں چا پردہ محمل دا
کوئی محرم راز نی ملدا

دل پریم نگر دوں تانگھے، جتھاں پینڈے سخت اڑانگے
نہ یار فرید ؔ نہ لانگھے، ہے پندھ بہوں مشکل دا
کوئی محرم راز نی ملدا

اتوار، 16 دسمبر، 2012

اِک الف پڑھو، چھٹکارا اے


اِک الف پڑھو، چھٹکارا اے
صرف اللہ کو اک جاننا ہی کافی ہے۔ یہ ایمان باقی سب سے رہائی دیتا ہے

اِک الفوں دو تِن چار ہوے
فر لکھ، کروڑ، ہزار ہوے
فر اوتھوں باجھ شمار ہوے
ایس الف دا نکتہ نیارا اے
اگرآپ اس عقیدے سے آگے نکلتے ہیں۔ تو بات پھر دو، تین چار سے ہوتی لاکھوں کروڑوں تک پہنچتی ہے۔اور یہی اس "الف" کی عمیق رمز ہے۔ میری نظرمیں بلہے شاہ نے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جو اس در کا بھکاری نہیں رہتا وہ پھر در در کا بھکاری بنتا ہے۔ بقول حضرت سلطان باہو
جنہاں حق نہ حاصل کیتا دوہیں جہانیں اُجڑے ہُو
غرق ہوئے وچ وحدت باہو ویکھ تِنہاں دے مُجرے ہُو


کیوں ہویائیں شکل جلاداں دی
کیوں پڑھنائیں گڈھ کتاباں دی
سر چانائیں پنڈ عذاباں دی
اگے پینڈا مشکل بھارا اے
کیوں چہرے پر علمیت کا رعب سجائے دوسروں پر تحقیری نگاہ ڈالتے ہو۔ کیوں کتابوں کو دماغ اندر سمو کر اپنے آپ کو عالم سمجھ بیٹھے ہو۔ یہ تو عذاب ہے۔ تم اس سے بچو۔ کیوں کہ آگے آنے والی راہ بہت کٹھن ہے۔ اور اسقدر وزن کے ساتھ تم اس پر نہ چل پاؤ گے۔

بن حافظ حفظ قرآن کریں
پڑھ ھڑھ کے صاف زبان کریں
پر نعمت وچ دھیان کریں
من پھردا دیوں ہلکارا اے
حافظ بنکر اتراتے ہو۔ رٹ رٹ کر بنا معانی جانے تمہاری اس کو پڑھنے کی روانی بھی قابل دید ہے۔ تم اک قاصد کی مانند اسکو لیئے پھرتے ہو۔ اسکو سمجھنے سے قاصر ہو۔ یہاں پر اک بڑا لطیف نقطہ قاصد کی تشبیہ کا ہے۔ کہ جیسے قاصد خط لے کر پہنچا دیتا ہے۔ پر وہ خط کے اندر کی عبارت سے ناآشنا ہوتا ہے۔ تو حافظ قرآن بھی حفظ کر کے ساری عمر دوسروں کو تو سنا رکھتا ہے۔ مگر اس کے اصل مفہوم سے ناآشنا رہتا ہے۔ بلہے شاہ فرماتے ہیں کہ اس نعمت کے اندر دھیان کی ضرورت ہے۔ نہ کے اس کو محض رتبے کے لیئے استعمال کیا جائے۔

اِک الف پڑھو، چھٹکارا اے

عشق بلے نوں نچاوے یار تے نچنا پیندا اے


مرنڑ کولوں مینوں روک نہ ملّا مرنڑ دا شوق مٹاون دے
کنجری بنیا عزت نہ گھٹدی نچ کے یار مناون دے
مل جاوے دیدار تے نچنا پیندا اے
سامنڑے ہووے یار تے نچنا پیندا اے
عشق بلہے دے اندر وڑیا پانبڑ اندر مچدا
عشق دے گھنگرو پا کے بلہا یار دے ویڑے نچیا
عشق بلے نوں نچاوے یار تے نچنا پیندا اے
جدوں مل جاوے دیدار تے نچنا پیندا اے
بُلہا پُلیا پیر ولوں جدوں دل وچ حیرت آئی
کیسا ڈھنگ ملن دا کراں جد ہووے رسوائی
پا لباس طوائفاں والا پہلی چانجر پائی
کنجری بنیا عزت نہ گھٹدی او نچ کے یار منائیں
عشق بلے نوں نچاوے یار تے نچنا پیندا اے
سامنڑے ہووے یار تے نچنا پیندا اے

آ مل یارا سار لے میری

آ مل یارا سار لے میری
میری جان دُکھاں نے گھیری
اے میرے دوست میری خبر گیری کو آؤ کہ میری جان غموں کے درمیان گھری ہوئی ہے
انسان جب خود کو بے بس محسوس کرتا ہے تو ایسے میں اسے رب کائنات کے علاوہ کوئی غمگسار نظر نہیں آتا۔ وہ بے اختیار اپنے رب کی طرف پلٹتا ہے۔ کہ اللہ اب غموں کے اس پہاڑ نے جینا مشکل کر دیا ہے۔ اور تیری ہی ذات واحد ہے جو مجھے ان سے چھٹکارا دلا سکتی ہے

اندر خواب وچھوڑا ہویا، خبر نہ پیندی تیری
سنجی، بن وچ لُٹی سائیاں، چور شنگ نے گھیری
میرے خواب و خیال پر جدائی نےقبضہ کر رکھا ہے۔ اور تمہاری کوئی خیر خبر نہیں
سنسان ویران جنگل میں مجھے لوٹا گیا اور چوروں، ڈاکؤوں نے مجھے گھیر رکھا ہے
انسان جب کسی بھی مہم پر نکلتا ہے تو انجان راستے پر بار بار اسے رہنمائی کے لیئے راستے کے لوگوں پر اعتبار کرنا پڑتا ہے۔ راستہ سمجھنا پڑتا ہے۔ مگر کچھ لوگ فریب منزل دے کر راہ سے بھٹکا دیتے ہیں۔ اور تمیز کرنا مشکل ہوتا چلا جاتا ہے کہ اب کس پر اعتبار کیا جائے اور کس پر نہیں۔ کچھ رہنما تو اسقدر دھوکا دیتے ہیں کہ انسان خالی ہاتھ رہ جاتا ہے۔ اور اسے نئے سرے سے قصد سفر باندھنا پڑتا ہے۔ یہ راستے کے مصائب مصائب نہیں آزمائشیں ہیں۔ تو جو ان آزمائشوں اور مصائب کے فرق کو سمجھ جاتا ہے۔ کامیابی کیطرف گامزن رہتا ہے۔

ملاں قاضی راہ بتاون، دین بھرم دے پھیرے
ایہہ تاں ٹھگ جگت دے جھیور، لاون جال چوفیرے
ملا اور قاضی مجھے ایسا راستہ بتاتے ہیں جو مجھے دین کے احکامات میں الجھائے جاتا ہے
یہ زمانے کے مشہور ٹھگ چڑی ماروں کی طرح چاروں طرف جال بننے میں مصروف ہیں
اب مسافر پر لازم ہے کہ وہ کھرے کھوٹے کو خوب سمجھے۔ ملا اک استعارہ ہے ان کے متعلق جو دین کے پیچیدہ مسائل کا درک نہیں رکھتے اور لکیر کے فقیر رہتے ہیں۔ ایسے لوگ مفہوم کو نت نئے کپڑے پہنا کر انسان کو عقائد کے گنجلک مسائل میں یوں الجھا دیتے ہیں کہ مقصد مطلق ذہن کے گوشوں سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اور زندگی ان لوگوں کے بیان کردہ مسائل کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے میں ہی گذر جاتی ہے۔ بلہے شاہ نے ان ٹھگوں کو شکاریوں بلکہ چڑی ماروں سے تشبیہ دی ہے۔ جن کا کام بس جال لگا کر چڑیاں پکڑنا ہوتا ہے۔

کرم شرع دے دھرم بتاون، سنگل پاون پیریں
ذات مذہب ایہہ عشق نہ پچھدا، عشق شرع دا ویری
یہ شریعت میں موجود رعائیتوں کو ایمان کو جزو لازم بتا کر پیروں میں عقائد کی موٹی موٹی زنجیریں باندھ رہے ہیں
جبکہ عشق ذات اور مذہب سے بالاتر ہے اور اسکی شرع کے اس طریق سے دشمنی ہے
اسی تسلسل میں بات جاری ہے کہ یہ لوگ دین میں موجود رعائیتوں کو جزو لازم قرار دے کر معصوم اور انجان لوگوں کو یوں گھیر لیتے ہیں کہ وہ عقائد اور گناہ و ثواب کی زنجیروں میں پھنسے باقی کی زندگی نیکیاں گننے میں گزار دیتے ہیں۔ ان کے یہ جال اسقدر مضبوط اور کامل ہیں کہ اک بار پیروں میں پڑ جائیں تو ان سے نجات آسان نہیں۔ جبکہ اصل میں طریقت پر چلنے والے ان تمام باتوں سے بے نیاز ہیں۔ ان کو ذات، مسند کا لالچ نہیں ہوتا اور نہ وہ منصب پر فخر کرتے ہیں۔ انکے نزدیک کسی کی منصبیت اور علم وجہ تفاخر نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناسمجھ لوگ اس طریق کو شرع کے متصادم سمجھتے ہیں۔

ندیوں پارملک سجن دا، لہر لوبھ نے گھیری
ستگوربیڑی پھڑی کھلوتے، تیں کیوں لائی دیری
محبوب کو ٹھکانہ ندی کے اس پار ہے جبکہ مجھے طمع و ہوس کی ہوا نے گھیر رکھا ہے
مرشد مجھے اس پار پہنچانے کے لیئے کوشاں ہے اور میں دیر کیئے جا رہا ہوں
محبوب کا ٹھکانہ ندی کے اس پار ہے سے مراد سرزمین پاک ہے اور درمیان میں سمندر حائل ہے۔ ہر مسلم کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ حج کرے مگر یہ عمل ہمارے یہاں وہ زیادہ تر اسوقت سر انجام دیتا ہے جب اسکے بقیہ دنیاوی کام اسکی نظر میں ختم ہونے کو ہوتے ہیں۔ بابا بلہے شاہ نے میری نظر میں اسی طرف طنز کیا ہے کہ سب یہاں حرص و طمع کی لہر میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اللہ کی دی ہوئی ڈھیل کو آخری حد تک استعمال میں لا رہے ہیں۔ اگر اس کیطرف سے پکڑ نہیں تو ضروری نہیں کہ اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جائے۔

بلھا شاہ شوہ تینوں ملسی، دل نوں دے دلیری
پیتم پاس،تے ٹولنا کس نوں، بُھل گیوں شکر دوپہری
بلہے شاہ! مرشد تجھے لازمی ملے گا۔ تو بس ناامید نہ ہو اور اپنے حوصلے کو برقرار رکھ
جب محبوب پاس ہو تو پھر ڈھونڈنا کسے۔ کیوں روشن دوپہر میں پہچان نہیں پا رہے۔
بلہے شاہ تجھے ہدایت ضرور ملے گی۔ بس تجھے یقین کامل کی ضرورت ہے۔ یقین کامل ہی انسان کو اس منزل تک لے جا سکتا ہے۔ اللہ کی ذات پاک تو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔اسے ڈھونڈنے کے لیئے نہ تو سفر کرنے ہیں نہ کہیں جانا ہے۔ پھر بھی انسان بھولا پھرتا ہے۔ بقول اشتیاق احمد صاحب (من چلے کا سودا) ! کہ بابو لوکا کدھر چلا گیا تھا۔ سفر تو منزلیں طے کرنے کے لیئے ہوتے ہیں۔ کہیں جانا تو ہے ہی نہیں۔ اسے تو یہاں دیکھنا ہے۔ شہ رگ کے پاس۔

نوٹ: یہ ترجمہ و تشریح میری سمجھ کے مطابق ہے۔ جس سے کسی کو بھی اختلاف ہو سکتا ہے۔ لہذا ہر آدمی اپنی سمجھ کے مطابق ترجمہ و تشریح کر سکتا ہے۔ یہ اشعار میری ملکیت ہرگز نہیں ہیں

اٹھ جاگ کھڑاڑے مار نئیں، ایہہ سُوَن ترے درکار نئیں


اٹھ جاگ کھڑاڑے مار نئیں، ایہہ سُوَن ترے درکار نئیں
کتھے ہے سلطان سکندر؟ موت نہ چھڈے پغمبر
سبے چھڈ چھڈ گئے اڈمبر، کوئی ایتھے پائدار نئیں
جو کجھ کر سیں، سو کجھ پاسیں، نئیں تے اوڑک پچھوں تا سیں
سوِنجی کونج ونگوں کرلاسیں، کھنباں باجھ اڈار نئیں
بلھا! شوہ بن کوئی ناہیں، ایتھے اوتھے دوئیں سرائیں
سنبھل سنبھل قدم ٹکائیں، پھیر آوَن دوجی وار نئیں
اٹھ جاگ کھڑاڑے مار نئیں، ایہہ سُوَن ترے درکار نئیں

ترجمہ:
اب اٹھنے کا وقت آ پہنچا ہے اور خراٹے مارنے کا وقت گزر چکا۔ اب تمہاری مزید نیند بیکار ہے۔
اٹھ کو ذرا غور کرو کہ سب سلطان سکندر موت کی نیند سو چکے ہیں۔ موت سے تو پیغمبر بھی مستثنیٰ نہیں ہیں۔
سب غرور کا لبادہ اوڑھنے والے موت کی اندھیرے میں ڈوبے پڑے ہیں۔ سوائے رب کائنات کے ہر چیز کو فنا ہے۔ اب تم جو کرو گے وہی کاٹو گے ورنہ عاقبت میں نامراد رہو گے۔
تنہا کونج کی مانند آہیں بھرو گے۔ کیوں کہ پروں کے بغیر تو اڑان ممکن ہی نہیں ہے۔
بلہے شاہ راستہ دکھانے والا مرشد بہت ضروری ہے۔ اسکے بناء تو دونوں جہانوں میں رسوائی ہے۔
اس ڈگر یعنی دنیا میں بہت سنبھل کر چلنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ اس راستے سے کسی نے دوبارہ نہ گزرنا ہے۔
اب اٹھ کر عمل کا آغاز کر دو۔ کہ یونہی غفلت میں اس قیمتی وقت سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں ہم لوگ۔

الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھیت سجن دے پائے


الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھیت سجن دے پائے
جب میری توقعات کے برعکس کام ہونے لگے تو میں نے سچے رب کو پا لیا۔

کاں لگڑاں نوں ما رن لگے، چڑیاں جُرّے ڈھائے
گھوڑے چگن اوڑیاں تے، گدوں خوید پوائے
کوے زاغ کا شکار کھیلنے لگے ہیں اور چڑیوں نے باز اور شکرے مار گرائے ہیں
گھوڑوں نے گندگی کے ڈھیر چرنا شروع کر دیئے ہیں اور گدھ سر سبز گندم کے کھیتوں میں پھر رہے

آپنیں وچ الفت ناہیں، کی چاچے، کی تائے
پیو پتراں اتفاق نہ کوئی، دھیاں نال نہ مائے
اتحاد و محبت خاندان سے اٹھ گیا ہے اور بھائی بھائی سے بیزار ہے
باپ بیٹے گر آپس میں برسر پیکار ہیں تو ماں بھی بیٹیوں کے ساتھ نہیں ہے

سچیاں نوں پئے ملدے دھکے، جھوٹے کول بہائے
اگلے ہو کنگالے بیٹھے، پچھلیاں فرش بچھائے
سچے لوگ دھتکارے جا رہے ہیں اور جھوٹ بولنے والوں کو عزت و تکریم سے نوازا جا رہا ہے
اسلاف تو بھوک کا شکار ہو گئے جبکہ بعد میں آنے والوں کی خودنمائی اور شان و شوکت کا اظہار قابل دید ہے

بھریاں والے راجے کیتے، راجیں بھیک منگائے
بُلھیا! حکم حضوروں آیا، تِس نوں کون ہٹائے
جو لوگ بوریاں لپیٹ کر سوتے تھے آج بادشاہ بنے پھرتے ہیں اور راجہ لوگ در در کی ٹھوکریں کھا رہے
لیکن بلہے شاہ یہ تو تقدیر کے فیصلے ہیں ان کے آگے سرتابی کی مجال نہیں

آئی رُت شگوفیاں والی، چِڑیاں چگن آئیاں


آئی رُت شگوفیاں والی، چِڑیاں چگن آئیاں
اکناں نُوں جرّیاں پھڑ کھاہدا، اکناں پھاہے لائیاں
اکنں آس مڑن دی آہے، اک سیخ کباب چڑھائیاں
بُلھے شاہ! کیہ وس اُناں دا جو مار تقدیر پھسائیاں

ترجمہ:
پھول کھلنے کی رت آنے پر چڑیاں دانہ دنگا چگنے آ پہنچی ہیں
کئی تو عقاب، باز شکرے جیسے شکاریوں کا شکار ہو گئیں اور کئی جال میں پھنس گئیں ہیں
کچھ کو یہ امید کہ وہ واپس پلٹ سکیں گی اور کچھ سیخ کباب کی نذر ہو گئیں
بلہے شاہ جس کو تقدیر گھیر لے پھر اسکے بس میں کیا رہتا ہے۔

ہفتہ، 15 دسمبر، 2012

اماں بابے دی بھلیائی، اوہ ہُن کم اساڈے آئی

اماں بابا چور دُھراں دے، پتر دی وڈیائی
دانے اُتوں گُت بگُتی، گَھر گَھر پَئی لڑائی
اساں قضیے تاہیں جالے، جد کنک اُنھاں ڑرکائی
کھائے خیرا، تے پھاٹیے جُما، اُلٹی دستک لائی
اماں بابے دی بھلیائی، اوہ ہُن کم اساڈے آئی

ترجمہ:
امی ابو ازل سے چور ہیں اور بیٹے کی بڑائیاں بیان ہو رہیں ہیں
اناج کے اوپر ہر گھر میں ایسے لڑائی ہو رہی ہے جیسے عورتیں اک دوسرے کے بال پکڑ کے گتھم گتھا ہو جاتی ہیں
ہم تو اس خرابی میں اس وقت پھنسے جب انہوں نے گندم کھائی تھی
کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی اور ہے۔ یہ اس زمانے کا عجب الٹا رواج ہے
امی ابو کے نیک کام کئے اب ہمارے کام آ رہے ہیں
تشریح:
اصل میں بابا بلھے شاہ نے اس میں حضرت آدم و حوا کو موضوع بنایا ہے۔ کہ چوری اور حکم عدولی ہماری گھٹی میں ہے۔ ہم کیسے مکمل ہو سکتے ہیں جب ہمارے ماں باپ ہی خام تھے۔ گھر گھر میں جو اناج پر لڑائیاں ہیں یہ اسی وجہ سے ہیں کہ ہمارے ماں باپ نے منع کرنے کے باوجود گندم کھائی تھی۔ اور اسی کا خمیازہ آجتک ہم بھگت رہے ہیں۔ انکے کیئے کاموں کا صلہ آجتک ہمیں مل رہا ہے۔

نوٹ: یہ میری سمجھ کے مطابق ہے۔ اس میں آپ لوگوں کو یقینا اختلاف ہو سکتا ہے۔ یہ محض سمجھانے کے لئیے ہے۔ ہر آدمی اپنی سمجھ کے مطابق ترجمہ کر لے۔

اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

پھڑ نقطہ، چھوڑ حِساباں نوں
چھڈ دوزخ، گور عذاباں نوں
کر بند، کُفر دیاں باباں نوں
کر صاف دِلے دیاں خواباں نوں

گل ایسے گھر وِچ ڈُھکدی اے
اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

ایویں متّھا زمیں گھسائی دا
پا لما محراب دکھائی دا
پڑھ کلمہ لوک ہسائی دا
دِل اندر سمج نہ لائی دا

کدی سچّی بات وی لُکدی اے
اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

اِک جنگل، بحریں جاندے نیں
اِک دانہ روز دا کھاندے نیں
بے سمجھ وجود تھکاندے نیں

چلیاں اندر جِند سُکدی اے
اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

کئی حاجی بن بن آئے جی
گل نیلے جامے پائے جی
حج ویچ ٹکے لَے کھائے جی
پر ایہہ گل کینوں بھائے جی

کِتے سچّی گل وی رُکدی اے
اِک نقطے وِچ گل مُکدی اے

پیر، 10 دسمبر، 2012

بابا بلہے شاہ


بلہے شاہ کا نام کم از کم برصغیر کے لوگوں کے لیئے کسی قسم کے تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ اسکے باوجود احقر چند جملوں میں انکے تعارف کو سمونے کی کوشش کرے گا۔
پنجابی زبان کے یہ مشہور و معروف صوفی شاعر 1680 میں ضلع قصور کے اک گاؤں پانڈو میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام شاہ محمد درویش تھا۔ اور ابتدائی تعلیم بھی اپنے باپ ہی سے حاصل کی۔ اسکے بعد کی تعلیم قصور شہر سے حاصل کی۔ وہاں ان کے اساتذہ کرام غلام مرتضیٰ اور محی الدین تھے۔ انکے مرشد کا نام شاہ عنایت تھا۔ آپ 1785 میں فوت ہوئے۔ 

بلہے شاہ کے کلام میں اس دور کے سیاسی رنگ کی گہری چھاپ ہے۔ اورنگزیب کے مرنے کے بعد مغل حکمرانوں کی حکومت آگئی۔ مرکزی حکومت ختم ہونے کے بعد ملک میں امن و امان کی مخدوش صورتحال نے بگڑ کا خانہ جنگی کی کیفیت اختیار کر لی۔ یہ صورتحال کی خبر جب نادر شاہ تک پہنچی تو اس نے ہند پر حملہ کر دیا۔ 1739 میں دلّی پر نادر شاہ کے حملے سے بہت خون خرابہ ہوا۔ ابھی اس جنگ کے زخم تازہ تھے کہ 1761 میں نادر شاہ کے جانشین احمد شاہ ابدالی نے اک بار پھر ہند پر حملہ کر دیا۔ اور دلّی کو اک بار پھر خون کا غسل کرنا پڑا۔ اس کے بعد ملک کے اندرونی حالات خلفشار کا شکار ہو گئے۔ ایسے ہی موقع پر بلہے شاہ نے کہا
در کھلا حشر عذاب دا
برا حال ہویا پنجاب دا

شاعر تو پیدا ہوتے ہی شاعر ہوتا ہے۔ اور بنانے سے نہیں بنتا۔ اسی مثال کے عین مطابق آپ میں شاعری کا وصف بچپن سے ہی تھا۔

بلہا! کی جاناں میں کون؟

نہ میں مومن وچ مسیتاں
نہ میں وچ کفر دی ریت آں
نہ میں پاکاں وچ پلیت آں
نہ میں موسیٰ نہ فرعون

نہ میں اندر بھید کتاباں
نہ بھنگاں نہ وچ شراباں
نہ وچ رنداں مست خرباں
نہ وچ جاگن وچ سون

نہ وچ شادی نہ غمناکی
نہ میں وچ پلیتی پاکی
نہ میں آبی نہ میں خاکی
نہ میں آتش نہ میں پون

نہ میں عربی نہ لاہوری
نہ میں ہندی شہر نگوری
نہ ہندو نہ ترک پشوری
نہ ميں ریندا وچ چندوَن

نہ میں بھید مذہب دا پایا
نہ میں آدم حوا جایا
نہ میں اپنا نام دھرایا
نہ وچ بیٹھن نہ وچ بھون

اول آخر آپ نوں جاناں
نہ کوئی دوجا ہور پچھانا
میتھوں ہور نہ کوئی سیانا
بلہا اوہ کھڑا اے کون
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔