‏جاوید اختر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏جاوید اختر لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 27 مئی، 2014

ایک مہرے کا سفر

جب وہ کم عمر ہی تھا
اس نے یہ جان لیا تھا کہ اگر جِینا ہے
بڑی چالاکی سے جِینا ہو گا
آنکھ کی آخری حد تک ہے بساطِ ہستی
اور وہ معمولی سا اِک مُہرہ ہے
ایک اک خانہ بہت سوچ کے چلنا ہو گا
بازی آسان نہیں تھی اس کی
دُور تک چاروں طرف پھیلے تھے
مُہرے
جَلّاد
نہایت سَفّاک
سخت بے رحم
بہت ہی چالاک
اپنے قبضے میں لئے
پوری بِساط
اس کے حصّے میں فقط مات لئے
وہ جِدھر جاتا
اسے مِلتا تھا
ہر نیا خانہ نئی گھات لئے
وہ مگر بچتا رہا
چلتا رہا
ایک گھر
دوسرا گھر
تیسرا گھر
پاس آیا کبھی اَوروں کے
کبھی دُور ہوا
وہ مگر بچتا رہا
چلتا رہا
گو کہ معمولی سا مُہرہ تھا مگر جیت گیا
یوں وہ اک روز بڑا مُہرہ بَنا
اب وہ محفوظ ہے اِک خانے میں
اتنا محفوظ کہ دشمن تو الگ
دوست بھی پاس نہیں آ سکتے
اُس کے اِک ہاتھ میں ہے جیِت اُس کی
دوسرے ہاتھ میں تنہائی ہے

جمعہ، 8 فروری، 2013

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں
زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں

چھت کی کڑیوں سے اُترتے ہیں مرے خواب مگر
میری دیواروں سے ٹکراکے بکھر جاتے ہیں

اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی
سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں

راسته روکے کھڑی ہے یہی الجھن کب سے
کوئی پوچھے تو کہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں

نرم آواز، بھلی باتیں، مہذب لہجے
پہلی بارش میں ہی یہ رنگ اُتر جاتے ہیں

اتوار، 27 جنوری، 2013

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی

ہمارے شوق کی یہ انتہا تھی
قدم رکھا کہ منزل راستہ تھی

بچھڑ کے ڈار سے بَن بَن پِھرا وہ
ہرن کو اپنی کستوری سزا تھی

کبھی جو خواب تھا وہ پا لیا ہے
مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی

میں بچپن میں کھلونے توڑتا تھا
میرے انجام کی وہ ابتدا تھی

محبّت مر گئی مجھ کو بھی غم ہے
میرے اچھے دنوں کی آشنا تھی

جسے چُھو لوں میں وہ ہو جائے سونا
تجھے دیکھا تو جانا بددعا تھی

مریضِ خواب کو تو اب شفا ہے
مگر دنیا بڑی کڑوی دوا تھی

جمعہ، 7 دسمبر، 2012

میرے مخالف نے چال چل دی ہے

میرے مخالف نے چال چل دی ہے
اور اب میری چال کے انتظار میں ہے
مگر میں کب سے
سفید خانوں، سیاہ خانوں میں رکھے
کالے سفید مہروں کو دیکھتا ہوں
میں سوچتا ہوں یہ مہرے کیا ہیں
اگر میں سمجھوں کے یہ جو مہرے ہیں صرف لکڑی کے ہیں کھلونے
تو جیتنا کیا ہے ہارنا کیا
نہ یہ ضروری نہ وہ اہم ہیں
اگر خوشی ہے نہ جیتنے کی نہ ہارنے کا ہی کوئی غم ہے
تو کھیل کیا ہے
میں سوچتا ہوں جو کھیل نہ ہے تو اپنے دل میں یقین کر لوں
یہ مہرے سچ مچ ہیں بادشاہ و وزیر و پیادے 
اور انکے آگے ہے دشمنوں کے وہ فوج
رکھتی ہے جو مجھکو تباہ کرنے کے سارے منصوبے سب ارادے
مگر میں ایسا جو مان بھی لوں
تو سوچتا ہوں یہ کھیل کب ہے
یہ جنگ ہے جس کو جیتنا ہے
یہ جنگ ہے جس میں سب ہے جائز
کوئی یہ کہتا ہے جیسے مجھ سے
یہ جنگ بھی ہے، یہ کھیل بھی ہے
یہ جنگ ہے پر کھلاڑیوں کی
یہ کھیل ہے جنگ کی وضع کا
میں سوچتا ہوں جو کھیل ہے یہ
تو اس میں اس طرح کا اصول کیوں ہے 
کہ کوئی مہرہ رہے کے جائے
مگر جو ہے بادشاہ اس پر کبھی کوئی آنچ نہ آے
وزیر ہی کو ہے بس اجازت کہ جس طرف بھی وہ چاہے جائے 
میں سوچتا ہوں جو کھیل ہے یہ
اس میں اس طرح کا اصول کیوں ہے 
کہ پیادہ جو اپنے گھر سے نکلے پلٹ کر واپس نہ جانے پاے
میں سوچتا ہوں اگر یہی ہے اصول تو پھر اصول کیا ہے
میں سوچتا ہوں اگر یہی ہے کھیل تو پھر کھیل کیا ہے
میں ان سوالوں سے جانے کب سے الجھ رہا ہوں
میرے مخالف نے چال چل دی ہے
اور اب میری چل کے انتظار میں ہے!!!

بھوک

آنکھ کھل گئی میری
ہوگیا میں پھر زندہ
پیٹ کے اندھیروں سے
ذہن کے دھندلکوں تک
ایک سانپ کے جیسا
رینگتا خیال آیا
آج تیسرا دن ہے آج تیسرا دن ہے

اک عجیب خاموشی
منجمد ہے کمرے میں
ایک فرش اور اک چھت
اور چار دیواریں
مجھ سے بے تعلّق سب
سب مرے تماشائی
سامنے کی کھڑکی سے
تیز دھوپ کی کرنیں
آرہی ہیں بستر پر
چُبھ رہی ہیں چہرے پر
اس قدر نکیلی ہیں
جیسے رشتے داروں کے
طنز میری غربت پر
آنکھ کھل گئی میری
آج کھوکھلا ہوں میں
صرف خول باقی ہے
آج میرے بستر میں
لیٹا ہے مرا ڈھانچہ
اپنی مُردہ آنکھوں سے
دیکھتا ہے کمرے کو
آج تیسرا دن ہے آج تیسرا دن ہے

دوپہر کی گرمی میں
بے ارادہ قدموں سے
اک سڑک پہ چلتا ہوں
تنگ سی سڑک پر ہیں
دونوں سمت دُکانیں
خالی خالی آنکھوں سے
ہر دُکان کا تحتہ
صرف دیکھ سکتا ہوں
اب پڑھا نہیں جاتا
لوگ آتے جاتے ہیں
پاس سے گزرتے ہیں
پھر بھی کتنے دھندلے ہیں
سب ہیں جیسے بے چہرہ
شور ان دُکانوں کا
راہ چلتی اک گالی
ریڈیو کی آوازیں
دُور کی صدائیں ہیں
آرہی ہیں میلوں سے
جو بھی سن رہا ہوں میں
جو بھی دیکھتا ہوں میں
خواب جیسا لگتا ہے
ہے بھی اور نہیں بھی ہے
دوپہر کی گرمی میں
بے ارادہ قدموں سے
اک سڑک پہ چلتا ہوں
سامنے کے نُکّڑ پر
نل دکھائی دیتا ہے
سخت کیوں ہے یہ پانی
کیوں گلے میں پھنستا ہے
میرے پیٹ میں جیسے
گھونسہ ایک لگتا ہے
آرہا ہے چکّر سا
جسم پر پسینہ ہے
اب سکت نہیں باقی
آج تیسرا دن ہے آج تیسرا دن ہے

ہر طرف اندھیرا ہے
گھاٹ پر اکیلا ہوں
سیڑھیاں ہیں پتّھر کی
سیڑھیوں پہ لیٹا ہوں
اب میں اُٹھ نہیں سکتا
آسماں کو تکتا ہوں
آسماں کی تھالی میں
چاند ایک روٹی ہے
جھک رہی ہیں اب پلکیں
ڈوبتا ہے یہ منظر
ہے زمین گردش میں

میرے گھر میں چُولھا تھا
روز کھانا پَکتا تھا
روٹیاں سُنہری ہیں
گرم گرم یہ کھانا
کُھل نہیں رہی آنکھیں
کیا میں مرنے والا ہوں
ماں عجیب تھی میری
روزاپنے ہاتھوں سے
مجھ کو وہ کھلاتی تھی
کون سرد ہاتھوں سے
چھو رہا ہے چہرے کو
اک نوالا ہاتھی کا
اک نوالا گھوڑے کا
اک نوالا بھالو کا
موت ہے کہ بے ہوشی
جو بھی ہے غنیمت ہے
آج تیسرا دن تھا آج تیسرا دن تھا
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔