‏قتیل شفائی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏قتیل شفائی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 3 جون، 2014

ہر بے زباں کو شعلہ نوا کہ لیا کرو

ہر بے زباں کو شعلہ نوا کہ لیا کرو
یارو سکوت ہی کو صدا کہ لیا کرو

خود کو فریب دو ، کہ نہ ہو تلخ زندگی
ہر سنگ دل کو جانِ وفا کہ لیا کرو

گر چاہتے ہو خوش رہیں کچھ بندگانِ خاص
جتنے صنم ہیں ان کو خدا کہ لیا کرو

انسان کا اگر قد و قامت نہ بڑھ سکے
تم اُس کو نقصِ آب و ہوا کہ لیا کرو

اپنے لیے اب ایک ہی راہِ نجا ت ہے
ہر ظلم کو رضائے خدا کہ لیا کرو

لے دے کہ اب یہی ہے نشانِ ضیا قتیلؔ
جب دل جلے تو اُس کو دیا کہ لیا کرو

بدھ، 20 فروری، 2013

آخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا

آخر وہ میرے قد کی بھی حد سے گزر گیا
کل شام میں تو اپنے ہی سائے سے ڈر گیا

مٹھی میں بند کیا ہوا بچوں کے کھیل میں
جگنو کے ساتھ اس کا اجالا بھی مر گیا

کچھ ہی برس کے بعد تو اس سے ملا تھا میں
دیکھا جو میرا عکس تو آئینہ ڈر گیا

ایسا نہیں کہ غم نے بڑھا لی ہو اپنی عمر
موسم خوشی کا وقت سے پہلے گزر گیا

لکھنا مرے مزار کے کتبے پہ یہ حروف
"مرحوم زندگی کی حراست میں مر گیا"

ہفتہ، 8 دسمبر، 2012

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسا لو مجھ کو

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں بسا لو مجھ کو
میں ہوں تیرا نصیب اپنا بنا لو مجھ کو

مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معانی
یہ تیری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

میں سمندر بھی ہوں، موتی بھی ہوں، غوطہ زن بھی
کوئی بھی نام میرا لے کر بلا لے مجھ کو

تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو

کل کی بات ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
جتنا جی چاہے تیرا آج ستا لے مجھ کو

خود کو کہیں بانٹ نہ ڈالوں دامن دامن
کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو

میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
میں ہوں اگر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو

میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں سامان پیارے
تو دبے پاؤں کبھی آ کر چرا لے مجھ کو

ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
تو کبھی یاد تو کر بھلانے والے مجھ کو

بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیل
شرط یہ ہے کوئی باہوں میں سنمبھالے مجھ کو
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔