‏جون ایلیاء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏جون ایلیاء لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 10 فروری، 2014

مجھ کو شبِ وجود میں تابش خواب چاہیے

مجھ کو شبِ وجود میں تابش خواب چاہیے
شوقِ خیال تازہ ہے یعنی عذاب چاہیے

آج شکستِ ذات کی شام ہے مجھ کو آج شام
صرف شراب چاہیے ، صرف شراب چاہیے

کچھ بھی نہیں ہے ذہن میں کچھ بھی نہیں سو اب مجھے
کوئی سوال چاہیے کوئی جواب چاہیے

اس سے نبھے گا رشتۂ سود و زیاں بھی کیا بھلا
میں ہوں بلا کا بدحساب اس کو حساب چاہیے

امن و امانِ شہرِ دل خواب و خیال ہے ابھی
یعنی کہ شہر دل کا حال اور خراب چاہیے

جانِ گماں ہمیں تو تم صرف گمان میں رکھو
تشنہ لبی کو ہر نفس کوئی سراب چاہیے

کھل تو گیا ہے دل میں ایک مکتبِ حسرت و امید
جونؔ اب اس کے واسطے کوئی نصاب چاہیے

جمعہ، 27 دسمبر، 2013

اقتباسات از جون ایلیا

ہمارے ہاں معیار اور مثالیے بہت ہی رکیک اور پست ہیں۔ ہم کسی عالم، ادیب، مفکر، مصنف، قانون داں، شاعر، افسانہ نگار اور سائنس داں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ ہم نقالوں، لطیفہ گویوں، اداکاروں، مسخروں اور بےہنگام نچنیوں اور گویوں کو اہمیت دیتے ہیں۔ سو ہمیں اپنے انجام اور مقسوم کو سمجھنے میں کوئی الجھن نہیں ہونا چاہیے۔

سسپنس ڈائجسٹ مئی 1996

اقتباسات از جون ایلیا

سن لیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ تاریخ کے خلاف کبھی جنگ نہیں کی جا سکتی اور اگر جنگ کی جائے گی تو شرم ناک ترین شکست کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ تم نے تاریخ کے خلاف جنگ کی اور اپنے اندر اور اپنے باہر شکست کھا گئے۔ جو مستقبل کی طرف قدم نہیں اٹھائے گا وہ ماضی کی طرف بری طرح دھکیل دیا جائے گا۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ علم تھا، دانش تھی۔ حکمت اور عمل کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ اس لیے ان کی دھاندلی جیت گئی۔ تمہارے ساتھ ایسا کوئی سلسلہ نہیں تھا، اس لیے تمہاری غلط کاری اور غلط کوشی کو تو سزا یاب ہونا ہی تھا۔ تم بتاؤ، جواب دو کہ ایسا کیوں نہ ہوتا؟ آخر تم نے تاریخ سے ایسا کون سا معاہدہ کیا ہے کہ تم وقت سے ہٹ کر چلو اور وقت تمہیں راستہ دے دے۔ عراق کی شکست جمہوریت کے مقابلے میں آمریت کی شکست ہے۔ علم کے مقابلے میں جہالت کی شکست ہے۔

کیا ہنر کی نقالی ہنر سے جیت سکتی ہے؟ کیا خریدی ہوئی مہارت حقیقی مہارت کا سامنا کر سکتی ہے؟ حیرت ہے کہ ہم یہ بات کیوں نہیں سوچتے اور یہ نقطہ کیوں نہیں سمجھتے؟ ہمیں اس حقیقت کا احساس کیوں نہیں ہوتا کہ ہم ایک ہزار برس سے تاریخ کے دسترخوان پر حرام خوری کے سوا اور کچھ نہیں کر رہے۔

اپریل 1991

ہفتہ، 14 دسمبر، 2013

شام تھی اور برگ و گُل شَل تھے مگر صبا بھی تھی

شام تھی اور برگ و گُل شَل تھے مگر صبا بھی تھی
ایک عجیب سکوت تھا ایک عجب صدا بھی تھی

ایک ملال کا سا حال محو تھا اپنے حال میں
رقص و نوا تھے بے طرف محفلِ شب بپا بھی تھی

سامعۂ صدائے جاں بے سروکار تھا کہ تھا
ایک گماں کی داستاں برلبِ نیم وا بھی تھی

کیا مہ و سالِ ماجرا، ایک پلک تھی جو میاں
بات کی ابتدا بھی تھی بات کی انتہا بھی تھی

ایک سرودِ روشنی نیمۂ شب کا خواب تھا
ایک خموش تیرگی سانحہ آشنا بھی تھی

دل تیرا پیشۂ گلہ کام خراب کر گیا
ورنہ تو ایک رنج کی حالتِ بے گلہ بھی تھی

دل کے معاملے جو تھے ان میں سے ایک یہ بھی ہے
اک ہوس تھی دل میں جو دل سے گریز پا بھی تھی

بال و پرِ خیال کو اب نہیں سمت وسُو نصیب
پہلے تھی ایک عجب فضا اور جو پُر فضا بھی تھی

خشک ہے چشمۂ سارِ جاں زرد ہے سبزہ زارِدل
اب تو یہ سوچیے کہ یاں پہلے کبھی ہوا بھی تھی

پیر، 9 دسمبر، 2013

تمہارا فیصلہ جاناں مجھے بے حد پسند آیا

تمہارا فیصلہ جاناں مجھے بے حد پسند آیا
پسند آنا ہی تھا جاناں
ہمیں اپنے سے اتنی دور تک جانا ہی تھا جاناں

بجا ہے خانماں سوز آرزوؤں ، تیرہ امّیدوں،
سراسر خوں شدہ خوابوں ، نوازش گر سرابوں،
ہاں سرابوں کی قَسم یک سر بجا ہے
اب ہمارا جان و دل کے جاوداں ، دل جان رشتے کو
اور اس کی زخم خوردہ یاد تک تو بے نیازانہ
بھُلا دینا ہی اچھا ہے
وہ سرمایا ، وہ دل سے بے بہا تر جاں کا سرمایا
گنوا دینا ہی اچھا ہے
زیانِ جاودانی کے گلہ افروز داغوں کو
بجھا دینا ہی اچھا ہے
تمہارا فیصلہ جاناں! مجھے بےحد پسند آیا۔ ۔ ۔۔۔ ​

بدھ، 27 نومبر، 2013

جبر پُر اختیار ہے ، اماں ہاں

جبر پُر اختیار ہے ، اماں ہاں
بیقراری قرار ہے ، اماں ہاں

ایزدِ یزداں ہے تیرا انداز
اہرمن دل فگار ہے ، اماں ہاں

میرے آغوش میں جو ہے اُس کا
دَم بہ دَم انتظار ہے ، اماں ہاں

ہے رقیب اُس کا دوسرا عاشق
وہی اِک اپنا یار ہے ، اماں ہاں

یار زردی ہے رنگ پر اپنے
سو خزاں تو بہار ہے ، اماں ہاں

لب و پستان و ناف اس کے نہ پوچھ
ایک آشوبِ کار ہے ، اماں ہاں

سنگ در کے ہوں یا ہوں دار کے لوگ
سب پہ شہوت سوار ہے ، اماں ہاں

اب تو انساں کے معجزے ہیں عام
اور انسان خوار ہے ، اماں ہاں

ایک ہی بار بار ہے ، اماں ہاں
اک عبث یہ شمار ہے ، اماں ہاں

ذرّہ ذرّہ ہے خود گریزانی
نظم ایک انتشار ہے ، اماں ہاں

ہو وہ یزداں کہ آدم و ابلیس
جو بھے خود شکار ہے ، اماں ہاں

وہ جو ہے جو   کہیں نہیں اس کا
سب کے سینوں پہ بار ہے ، اماں ہاں

اپنی بے روزگاریِ جاوید
اک عجب روزگار ہے ، اماں ہاں

شب خرابات میں تھا حشر بپا
کہ سخن ہرزہ کار ہے ، اماں ہاں

کیا کہوں فاصلے کے بارے میں
رہگزر ، رہگزر ہے ، اماں ہاں

بھُولے بھُولے سے ہیں وہ عارض و لب
یاد اب یادگار ہے ، اماں ہاں

منگل، 26 نومبر، 2013

وہ اہلِ حال جو خود رفتگی میں آئے تھے

وہ اہلِ حال جو خود رفتگی میں آئے تھے
بلا کی حالتِ شوریدگی میں آئے تھے

کہاں گئے کبھی ان کی خبر تو لے ظالم
وہ بے خبر جو تیری زندگی میں آئے تھے

گلی میں اپنی گِلہ کر ہمارے آنے کا
کہ ہم خوشی میں نہیں سرخوشی میں آئے تھے

کہاں چلے گئے اے فصلِ رنگ و بُو وہ لوگ
جو زرد زرد تھے اور سبزگی میں آئے تھے

نہیں ہے جن کے سبب اپنی جانبری ممکن
وہ زخم ہم کو گزشتہ صدی میں آئے تھے

تمہیں ہماری کمی کا خیال کیوں آتا
ہزار حیف ہم اپنی کمی میں آئے تھے

پیر، 11 نومبر، 2013

تمہارا شکریہ از جون ایلیا

تمہارا شکریہ
ـــــــــــــــــــــــــ

جون ایلیاء کی آخری مکمل تحریر "تمھارا شکریہ" ان کی وفات کے بعد سسپینس ڈائجسٹ میں شایع ہوئی جس میں انہوں نے اپنی موت کی قبل از وقت علامتی اطلاع دی تھی جس میں جون ایلیاء کا ہمزاد (نشیان) ان کے قاتلوں کا انکشاف کر رہا ہے۔

نشیان، سحرالبیان
تم نے سنا جون ایلیاء مر گئے
کیا کہا، جون ایلیاء مر گئے؟
ہاں، ہاں جون ایلیاء مر گئے
لیکن تمہیں یقین کیوں نہیں آ رہا "نشیان، بلیغ البیان!" کیا میں اتنا بڑا اور احمقانہ جھوٹ بول سکتا ہوں؟ کیا میں تم سے ٹھٹھول کر سکتا ہوں؟ نہیں نشیان، نہیں نہ یہ مخول ہے نہ ٹھٹھول! یہ حقیقت ہے بین اور ٹھوس حقیقت جس سے نہ منہ موڑا جا سکتا ہے اور نہ انکار کیا جا سکتا ہے

اچھا! چلو میں تمہاری اس دل پذیر تقریر پر اعتبار کر لیتا ہوں میں مان لیتا ہوں کہ تم سچ بول رہے ہو ممکن ہے کہ تم سچ ہی بول رہے ہو "شاید" تم سچ ہی بول رہے ہو اچھا بھئی، تم یقیناً سچ بول رہے ہو، اب اگر ایسا ہی ہے "یعنی" یہ کہ تم سچ ہی بول رہے ہو تو سنو، ذرا غور سے سنو!

اب تم بول چکو اور میری بات سنو، آج صرف میں بولوں گا، صرف میں اس لیے کہ جون ایلیاء تو مر گئے ان کے سامنے تو میں کیا، کوئی بھی بول ہی نہیں سکتا تھا لہذا ان کی موجودگی میں چپ رہ رہ کر میرا سینہ جہنم بن چکا ہے میرے اندر ایک آگ لگی ہوئی ہے اور میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور میں آج اس آگ کو بجھا کر ہی دم لوں گا اور اس آگ میں تم کو جلا کر ہی دم لوں گا

اب تم انتہائی خاموشی! جاں گسل خاموشی کے ساتھ سنو

تم نے کہا کہ "جون ایلیاء مر گئے" یہی کہا ہے نا؟ دیکھو، اپنے بیان سے پھر مت جانا کہ آج دنیا کا یہی چلن ہے اور تم ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم، ہی تو دنیا ہو یا "شاید" دنیا تم ہو بہ ہر صورت تم جو کوئی بھی ہو، بس ہو لہذا سنو

میں نشیان، سحر البیان پوری دنیا کو، پورے اردو گلوب کو آج یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ جون ایلیا نہیں مرے آج کے بعد کوئی یہ لفظ اپنی لپ لپاتی زبان سے ادا نہ کرے کہ جون ایلیاء مر گئے ورنہ گدی سے اس کی زبان کھینچ لی جائے گی

کیوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نشیان، کیوں ؟ آکر اس حقیقت کی حقیقت سے انکار کیوں؟ میرا خیال ہے تم جون ایلیاء کی محبت میں جذباتی ہو رہے ہو

خاموش! لب کشائی کی جرات مت کرو دریدہ دہہن انسان خاموش!

اگر حوصلہ ہے تو سنو ورنہ دفعہ ہو جاؤ میں یہ کبھی نہیں مان سکتا کہ جون ایلیاء مر گئے اس لیے کہ اگر میں یہ مان لوں تو پھر تمہیں جو کچھ ماننا پڑے گا تم اس کے لیے ہرگز ہرگز تیار نہیں ہو گے

کیا کہا ؟ تم سب کچھ ماننے کے لیے تیار ہو، اچھا تو پھر سنو

اگر میں یہ مان لوں کہ جون ایلیاء مر گئے تو پھر تمہیں یہ ماننا پڑے گا کہ آج ایک سقراط مر گیا، ہومر مر گیا، تاسیس ملیٹی! ہاں، وہ بھی گیا ارسطو، وہ بھی ہاں، ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں! ابن مسکویہ، فارابی، ابن رشد، بو علی سینا، طوسی، خیام سعدی، عرفی، رومی، نطشے، برٹرینڈرسل، برنارڈ شا،مل یہ سب مر گئے ایک پوری کی پوری بستی فنا کے گھاٹ اتر گئ

پڑ گیئں نا شکنیں پیشانی پر؟ تو کیا میں ڈر جاؤں گا!

نہیں مربی نہیں، میں بہت ڈر لیا، اب مجھے کسی کا ڈر نہیں ہے جب جون ایلیاء مر گئے تو اب مجھے موت کا کیا ڈر سنو، اب تو جہنم ہی سنو

جون ایلیاء مرے نہیں ہیں میں بار بار یہی کہتا رہوں گا کہ جون ایلیاء نہیں مرے ہاں میں یہ مان لوں گا کہ جون ایلیاء ہار گئے

مربی، اب پھر تم ادبی جملہ بولو گے کہ جون ایلیاء موت سے ہار گئے لیکن ایسا بالکل نہیں ہے مربی!

پیارے نشیان، ذرا دم لے لو، تمہارا سانس پھول چکا ہے ایک ذرا دم لے لو یہ لو! یہ دو گھونٹ پانی پی لو

میں پانی پی کر بھی آج تمہارا شکریہ ادا نہیں کروں گا اور تمہارا یہ پانی! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ چند گھونٹ میرے لیے، میرے اندر کے جہنم کے لیے قطعاً بے کار اور ناکافی ہیں

سنو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور صرف سنو! تم نے صرف ایک ہی فن سیکھا ہے اور وہ ہے خوشآمد، میری خوشآمد مت کرو، مجھے پانی مت پلاؤ بس اگر ہو سکے تو صرف سنو!

جون ایلیاء زندگی سے نہیں ہارے بلکہ وہ تمہاری دنیا سے ہارے ہیں خوشامد سے ہارے ہیں فریب سے ہارے ہیں دغا بازی سے ہارے ہیں نمک حرامی سے ہارے ہیں، احسان فراموشی سے ہارے ہیں وہ تو تم سے ہارے ہیں مربی! تم سے

بس چند جملے اور سن لو مربی! اور ذرا کلیجے کو تھام لو کہ میں اب ان لوگوں کے نام لینے والا ہوں جن سے جون ایلیاء ہار گئے ہیں

جون ایلیا! تنہائی اور بے وفائی سے ہارے ہیں
جون ایلیا! علمی بونوں سے ہارے ہیں
جون ایلیا! اپنے خون سے ہارے ہیں
جون ایلیا! اپنی ثقافت سے ہارے ہیں
جون ایلیا! اپنی روایت سے ہارے ہیں

یہ ہیں جون ایلیا کے قاتل

مربی، اب اگر تم ان ناموں سے واقف نہیں ہو تو یہ تمہاری کم علمی اور سہل پسندی ہے اک ذرا سی کوشش کرو تو تم ان چہروں سے بھی آشنا ہو جاؤ گے

جاؤ مربی، جاؤ اپنے اس جہنم میں دفعان ہو جاؤ جو تم نے خود تیار کیا ہے ہو جاؤ مگن دنیا میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن یاد رکھو، جون ایلیاء کے یادگاری جلسوں میں کہا جانے والا یہ لفظ بے معنی ہے کہ ایک خلا پیدا ہو گیا ہے جو تا دیر پر نہیں ہو گا کوئی خلا پیدا نہیں ہوا یہ مان لو، نہیں مانتے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کہا نہیں مانتے ؟ دیکھو، سوچ لو اگر نہیں مانو گے تو پھر تمہیں میرے اس جملے سے مکمل اتفاق کرنا پڑے گا اور یاد رکھو، پھر یہ جملہ تمہارا مقدر ہو جائے گا وہ مقدر جس کو تم بدل نہیں سکو گے

اور وہ جملہ یہ ہے کہ آج ادب، تاریخ، فلسفے، منطق اور ذہہن و زبان و ثقافت کا ایک مکمل دور ختم ہو گیا ہے، خلا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا کہا خلا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں یاد آیا، مربی! تم نے خلا کی بات کی تھی بھائی، تم جس خلا کی بات کر رہے ہو، وہ خلا تو جون ایلیاء کی زندگی میں ہی پر ہو گیا تھا

نشیان! پیارے، راج دلارے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیسے ممکن ہے، یہ خلا کس نے پر کیا؟ کیسے ہوا، بھلا کیسے؟ یہ ان ہون، یہ ناممکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ناممکن ہے

نہیں مربی! نہیں، تمہاری دنیا میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے لیکن تم نہیں مانو گے تم کیسے مان سکتے ہو بھلا کہیں اندرائن کے پیڑ میں بھی انگور کے خوشے لگے ہیں اچھا! تم نہیں مانتے، چلو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں مان لیتا ہوں تو پھر سنو کہ یہ خلا تمہارے بونوں نے جون ایلیاء کی زندگی ہی میں پر کر دیا تھا

پھر وہی نہیں

ہاں نشیان! نہیں، نہیں، نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 

اچھا مربی! تو پھر آج ہم اور تم اس بات کو آکری فیصلہ قرار دیتے ہیں کہ یہ خلا کبھی، کبھی، کبھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر نہیں ہو گا کیا تم اس بات سے اتفاق کرتے ہو مربی! اگر ہاں تو پھر تمھارا شکریہ مربی، ڈھیروں شکریہ!

(ماہنامہ سسپنس ڈائجسٹ دسمبر 2002ء)

متاعِ جاں

یوں مجھے کب تلک سہو گے تم 
کب تلک مبتلا رہو گے تم 

درد مندی کی مت سزا پاؤ
اب تو تم مجھ سے تنگ آجاؤ

میں کوئی مرکزِ حیات نہیں
وجہ تخلیقِ کائنات نہیں 

میرا ہر چارہ گر نڈھال ہوا
یعنی ، میں کیا ہوا، وبال ہوا

جون غم کے ہجوم سے نکلے 
اور جنازا بھی دھوم سے نکلے 

اور جنازے میں ہو یہ شورِ حزیں
آج وہ مر گیا ، جو تھا ہی نہیں

ہفتہ، 21 ستمبر، 2013

اقتباس از جون ایلیا

ہم دیکھ رہے ہیں کہ مدتوں سے ہمارے شہروں میں دانش و فن سے معاندانہ بیگانگی اختیار کر لی گئی ہے۔ ہمیں چاروں طرف سے ایک ہجوم گھیرے ہوئے ہے۔ ایک ہجوم جو نہ سنتا ہے نہ سمجھتا ہے۔ ہماری بستیوں میں ایک عجیب و غریب نسل پیدا ہوگئی ہے۔ اس نسل کے پاس نہ حافظہ ہے اور نہ تخیل۔ جو ماضی کے قابل ہے اور نہ مستقبل کے شایان۔ اس کا مقدر یہ ہے کہ صرف حال میں معلق رہے۔ اس نسل کا وجود بالکل غیر طبعی ہے۔ ان کے سامنے اگر علوم و فنون کا ذکر کیا جائے تو ان کے چہرے متغیر ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے بعض ایسے ہیں جو سوال کرتے ہیں کہ علوم و فنون کا ذائقہ کیا ہوتا ہے؟ یہ لوگ ادب، فلسفہ اور شاعری کو عام زندگی کی اشیائے ضرورت اور اسباب تعیّشات کی نسبت سے جانچتے ہیں۔

جون ایلیا
دسمبر 1958

ہفتہ، 7 ستمبر، 2013

مجھ کو آپ اپنا پتا دیجیے گا

مجھ کو آپ اپنا پتا دیجیے گا
اور کچھ بھی نہ مجھ سے لیجیے گا

آپ بے مثل بے مثال ہوں میں
مجھ سِوا آپ کس پر ریجھیے گا

آپ جو ہیں ازل سے ہی بے نام
نام میرا کبھی تو لیجیے گا

آپ بس مجھ میں ہی تو ہیں، سو آپ
میرا بے حد خیال کیجیے گا

ہے اگر واقعی ہی شراب حرام
آپ ہونٹوں سے میرے پیجیے گا

انتظاری ہوں اپنا میں دن رات
اب مجھے آپ بھیج دیجیے گا

آپ مجھ کو بہت پسند آئیں
آپ میری قمیص سیجیے گا

دل کے رشتے ہیں جون جھوٹ کے رشتے
یہ معمّا کبھی نہ بوجھیے گا

ہے میرے جسم و جان کا ماضی کیا
مجھ سے بس یہ کبھی نہ پوچھیے گا

مجھ سے میری کمائی کا سرِ شام 
پائی پائی حساب لیجیے گا

زندگی کیا ہے اک ہُنر کرنا
سو قرینے سے زہر پیجیے گا

میں جو ہوں جون ایلیا ہوں جناب
اس کا بے حد لحاظ کیجیے گا

ایک نقطہ نہ بھولئے گا کبھی
مرتے رہیئے گا اور جی جیے گا

ہوس جاوداں ہیں آپ میری
اب تو جم جم جناب جی جیے گا

جمعرات، 1 اگست، 2013

راتیں سچی ہیں، دن جھوٹے ہیں


چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو پھر بھی میں اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا 
اِن کی لذت اور اذیت سے میں اپنا عہد نہیں توڑوں گا
تیز نظر نابیناؤں کی آبادی میں ،
کیا میں اپنے دھیان کی یہ پونجی بھی گنوا دوں
ہاں میرے خوابوں کو تمھاری صبحوں کی سرد اور سایہ گوں تعبیر 
اِن صبحوں نے شام کے ہاتھوں اب تک جتنے سورج بیچے 
وہ سب اک برفانی بھاپ کی چمکیلی اور چکر کھاتی گولائی تھے 
سو میرے خوابوں کی راتیں جلتی اور دہکتی راتیں
ایسی یخ بستہ تعبیر کے ہر دن سے اچھی ہیں اور سچی بھی ہیں
جس میں دھندلا چکر کھاتا چمکیلا پن چھ اطراف کا روگ بنا ہے
میرے اندھیرے بھی سچے ہیں
اور تمھارے روگ اُجالے بھی جھوٹے ہیں
راتیں سچی ، دن جھوٹے 
جب تک دن جھوٹے ہیں جب تک
راتیں سہنا اور اپنے خوابوں میں رہنا
خوابوں کو بہانے والے دن کے اجالے سے اچھے ہے
ہاں میں بہکاؤں کی دھند سے اڑھوں گا 
چاہے تم میری بینائی کھرچ ڈالو میں پھر بھی اپنے خواب نہیں چھوڑوں گا
اپنا عہد نہیں توڑوں گا
یہی تو بس میرا سب کچھ ہے
ماہ و سال کے غارت گر سے میری ٹھنی ہے
میری جان پر آن بنی ہے
چاہے کچھ ہو میرے آخری سانس تلک اب چاہے کچھ ہو

منگل، 23 جولائی، 2013

اک پاگل لڑکی کو بھُلا کر اب تو بڑے آرام سے ہو

جون! تمہیں یہ دور مبارک، دُور غمِ ایاّم سے ہو
اک پاگل لڑکی کو بھُلا کر اب تو بڑے آرام سے ہو
ایک ادھوری انگڑائی کے مستقبل کا خون کیا
تُم نے اس کا دل رکھا یا اس کے دل کا خون کیا
یہ جو تمہارا سحرِ تکلّم حسن کو کرتا ہے مسحور
بانو، جمال آرا اور فضّہ کے حق میں ہے اک ناسور

خونِ جگر کا جو بھی فن ہے سچ جانو، وہ جھوٹا ہے

وہ جو بہت سچ بول رہا ہے ، سچ جانو وہ جھوٹا ہے
قتلِ سیزر پر انطوائی جو کچھ بولا جھوٹ تھا وہ
یعنی لبوں نے جتنا کچھ زخموں کو تولا جھوٹ تھا وہ
میّت پر سُہراب کی فردوسی نے ناٹک کھیلا تھا
اس کے ہونٹوں پر تھے نالے دل میں فن کا میلا تھا

حسن بَلا کا قاتل ہو پر آخر کو بیچارا ہے
عشق تو وہ قتّال ہے جس نے اپنے کو بھی مارا ہے
یہ دھوکے دیتا آیا ہے دل کو بھی دنیا کو بھی
اس کے جھوٹ نے خوار کیا ہے صحرا میں لیلیٰ کو بھی
دل دکُھتا ہے کیسے کہوں مین،چل سے بے چل ہوتے ہیں
جذبے میں جو بھی مرتے ہیں، وہ سب پاگل ہوتے ہیں

تھی جو اک صیّاد تمہاری، ٹھہری ہے اک صیدِ زبوں
یعنی اب ہونٹوں سے مسیحا کے رِستا ہے اکثر خون
خون کی تھوکن ہے جو تمہاری، کیا ہے وہ اک پیشہ کہ نہیں
تم ہو مسیحاوٗں کے حق میں قاتل اندیشہ کہ نہیں
فن جو جُز فن کچھ بھی نہ ہو، وہ اک مہلک خوش باشی ہے
کارِ سُخن پیشہ ہے تمہارا جو خونی عیّاشی ہے

جون ، ہو تم جو بند بَلا کے "عشاقی" میں چاق بھی ہو
تم جذبوں کے سوداگر ہو اور ان کے قزّاق بھی ہو
عشق کی یاوہ سرائی آخر رد بھی ہونا چاہیے نا
آخر کو بکواس کی کوئی حد بھی ہونا چاہیے نا
میں جو ہوں باتوں کا ہوں میں، اک خاوند، اک خدا
لڑکی کو پَرچانے کا فن کس نے جانا میرے سِوا

جان، تمہی میرا سب کچھ ہو، جی نہیں سکتا میں تم بن
لمحوں کی پیکار ہے جن میں، بس ہوں سسکتا میں تم بن
سُنتے ہو وہ جان تمہاری، بس اب گھر تک زندہ ہے
گھر کیا، وہ اُٹھ بھی نہیں سکتی، بس بستر تک زندہ ہے۔۔۔

منگل، 18 جون، 2013

چلو بادِ بہاری جا رہی ہے

چلو بادِ بہاری جا رہی ہے
پِیا جی کی سواری جا رہی ہے

شمالِ جاودانِ سبز جاں سے
تمنا کی عماری جا رہی ہے

فغاں اے دشمنی دارِ دل و جاں
مری حالت سُدھاری جا رہی ہے

جو اِن روزوں مرا غم ہے وہ یہ ہے
کہ غم سے بُردباری جا رہی ہے

ہے سینے میں عجب اک حشر برپا
کہ دل سے بے قراری جا رہی ہے

میں پیہم ہار کر یہ سوچتا ہوں
وہ کیا شے ہے جو ہاری جا رہی ہے

دل اُس کے رُوبرو ہے اور گُم صُم
کوئی عرضی گزاری جا رہی ہے

ہے پہلو میں ٹَکے کی اک حسینہ
تری فرقت گزاری جا رہی ہے

وہ سیِّد بچّہ ہو اور شیخ کے ساتھ
میاں عزّت ہماری جا رہی ہے

ہے برپا ہر گلی میں شورِ نغمہ
مری فریاد ماری جا رہی ہے

وہ یاد اب ہو رہی ہے دل سے رخصت
میاں پیاروں کی پیاری جا رہی ہے

دریغا! تیری نزدیکی میاں جان
تری دوری پہ واری جا رہی ہے

بہت بدحال ہیں، بستی، ترے لوگ
تو پھر تُو کیوں سنواری جا رہی ہے

تری مرہم نگاہی اے مسیحا!
خراشِ دل پہ واری جا رہی ہے

خرابے میں عجب تھا شور برپا
دلوں سے انتظاری جا رہی ہے

جمعہ، 7 جون، 2013

آج بھی تشنگی کی قسمت میں

آج بھی تشنگی کی قسمت میں
سم قاتل ہے سلسبیل نہیں

سب خدا کے وکیل ہیں لیکن
آدمی کا کوئی وکیل نہیں

ہے کشادہ ازل سے روئے زمیں
حرم و دیر بے فصیل نہیں

زندگی اپنے روگ سے ہے تباہ
اور درماں کی کچھ سبیل نہیں

تم بہت جاذب و جمیل سہی
زندگی جاذب و جمیل نہیں

مت کرو بحث ہار جاؤ گی
حسن اتنی بڑی دلیل نہیں

پیر، 20 مئی، 2013

کیا یقین اور کیا گماں چُپ رہ

  • کیا یقین اور کیا گماں چُپ رہ
  • شام کا وقت ہے میاں, چپ رہ

  • ہو گیا قصۂ وجود تمام
  • ہے اب آغازِ داستاں, چُپ رہ

  • میں تو پہلے ہی جا چکا ہوں کہیں
  • تُو بھی جاناں نہیں یہاں، چُپ رہ

  • تُو جہاں تھا جہاں جہاں تھا کبھی
  • تُو بھی اب تو نہیں وہاں، چپ رہ

  • ذکر چھیڑا خدا کا پھر تو نے
  • یاں ہے انساں بھی رائگاں، چُپ رہ

  • سارا سودا نکال دے سر سے
  • اب نہیں کوئی آستاں، چُپ رہ

  • اہرمن ہو، خدا ہو یا آدم
  • ہو چکا سب کا امتحاں، چُپ رہ

  • درمیانی ہی اب سبھی کچھ ہے
  • تُو نہیں اپنے درمیاں، چُپ رہ

  • اب کوئی بات تیری بات نہیں
  • نہیں تیری۔۔تری زباں، چُپ رہ

  • ہے یہاں ذکر حالِ موجوداں
  • تُو ہے اب از گزشتگاں، چُپ رہ

  • ہجر کی جاں کنی تمام ہوئی
  • دل ہوا جونؔ بے اماں چُپ رہ

منگل، 23 اپریل، 2013

شوق کا رنگ بُجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے

شوق کا رنگ بُجھ گیا یاد کے زخم بھر گئے
کیا میری فصل ہو چُکی کیا میرے دن گُزر گئے

راہگُزرِ خیال میں دوش بدوش تھے جو لوگ
وقت کے گردباد میں جانے کہاں بکھر گئے

شام ہے کتنی بے تپاک شہر ہے کتنا سہم ناک
ہم نفسو کہاں ہو تم جانے یہ سب کدھر گئے

آج کی شام ہے عجیب کوئی نہیں میرے قریب
آج سب اپنے گھر رہے آج سب اپنے گھر گئے

رونقِ بزمِ زندگی طُرفہ ہیں تیرے لوگ بھی
اک تو کبھی نہ آئے تھے، گئے تو رُوٹھ کر گئے

خوش نفسانِ بےنوا، بے خبرانِ خوش ادا
تِیرہ نصیب تھے مگر شہر میں نام کر گئے

آپ میں جون ایلیا سوچئے اب دھرا ہے کیا
آپ بھی اب سدھاریے آپ کے چارہ گر گئے

اتوار، 21 اپریل، 2013

ضبط کر کے ہنسی کو بُھول گیا

ضبط کر کے ہنسی کو بُھول گیا
میں تو اُس زخم ہی کو بُھول گیا

ذات در ذات ہمسفر رہ کر
اجنبی، اجنبی کو بُھول گیا

صبح تک وجہِ جانکنی تھی جو بات
میں اُسے شام ہی کو بُھول گیا

عہدِ وابستگی گزار کے میں
وجہِ وابستگی کو بُھول گیا

سب دلیلیں تو مجھ کو یاد رہیں
بحث کیا تھی اِسی کو بُھول گیا

کیوں نہ ہو ناز اِس ذہانت پر
ایک میں، ہر کسی کو بُھول گیا

سب سے پُراَمن واقعہ یہ ہے
آدمی، آدمی کو بُھول گیا

قہقہہ مارتے ہی دیوانہ
ہرغِم زندگی کو بُھول گیا

خواب  ہا  خواب جس کو چاہا تھا
رنگ ہا رنگ اسی کو بُھول گیا

کیا قیامت ہوئی اگر اِک شخص
اپنی خوش قسمتی کو بُھول گیا

سوچ کر اُس کی خلوت انجمنی
واں میں اپنی کمی کو بُھول گیا

سب بُرے مجھ کو یاد رہتے ہیں
جو بَھلا تھا اُسی کو بُھول گیا

اُن سے وعدہ تو کر لیا لیکن
اپنی کم فُرصتی کو بُھول گیا

بستیو! اب تو راستہ دے دو
اب تو میں اس گلی کو بُھول گیا

اُس نے گویا مُجھی کو یاد رکھا
میں بھی گویا اُسی کو بُھول گیا

یعنی تم وہ ہو، واقعی؟ حد ہے
میں تو سچ مُچ سبھی کو بُھول گیا

آخری بُت خدا نہ کیوں ٹھہرے
بُت شکن بُت گری کو بُھول گیا

اب تو ہر بات یاد رہتی ہے
غالباً میں کسی کو بُھول گیا

اس کی خوشیوں سے جلنے والا جون
اپنی ایذا دہی کو بُھول گیا

بدھ، 17 اپریل، 2013

یارو! نگہ یار کو، یاروں سے گِلہ ہے

یارو! نگہ یار کو، یاروں سے گِلہ ہے 
خونیں جگروں، سینہ فگاروں سے گِلہ ہے 

جاں سے بھی گئے، بات بھی جاناں کی نہ سمجھی 
جاناں کو بہت عشق کے ماروں سے گِلہ ہے 

اب وصل ہو یا ہجر، نہ اب تک بسر آیا 
اِک لمحہ، جسے لمحہ شماروں سے گِلہ ہے

اُڑتی ہے ہر اک شور کے سینے سے خموشی 
صحراؤں کو  پُرشور دیاروں سے گِلہ ہے

بیکار کی اک کارگزاری کے حسابوں
بیکار ہوں اور کارگزاروں سے گِلہ ہے

میں آس کی بستی میں گیا تھا سو یہ پایا
جو بھی ہے اُسے اپنے سہاروں سے گِلہ ہے

بے فصل اِشاروں سے ہوا خون جنوں کا
اُن شوخ نگاہوں کے اِشاروں سے گِلہ ہے

ہفتہ، 13 اپریل، 2013

ہوکے غلطاں خوں میں، کوئی شہسوار آیا تو کیا

ہوکے غلطاں خوں میں، کوئی شہسوار آیا تو کیا
زخم خوردہ بےقراری کو، قرار آیا تو کیا

زندگی کی دھوپ میں مُرجھا گیا میرا شباب
اب بہار آئی تو کیا، ابرِ بہار آیا تو کیا

میرے تیور بُجھ گئے، میری نگاہیں جَل گئیں
اب کوئی آئینہ رُو، آئینہ دار آیا تو کیا

اب کہ جب جانانہ تم کو ہے سبھی پر اعتبار
اب تمہیں جانانہ  مجھ پر اعتبار آیا تو کیا

اب مجھے خود اپنی بانہوں پر نہیں ہے اختیار
ہاتھ پھیلائے کوئی بےاختیار آیا تو کیا

وہ تو اب بھی خواب ہے، بیدار بینائی کا خواب
زندگی میں خواب میں اس کو گُزار آیا تو کیا

ہم یہاں بیگانہ ہیں سو ہم میں سے جون ایلیا
کوئی جیت آیا تو یہاں اور کوئی ہار آیا تو کیا
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔