‏ندا فاضلی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏ندا فاضلی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 8 دسمبر، 2015

یہ زندگی

یہ زندگی
آج جو تمہارے
بدن کی چھوٹی بڑی نسوں میں
مچل رہی ہے
تمہارے پیروں سے چل رہی ہے
تمہاری آواز میں گلے سے نکل رہی ہے
تمہارے لفظوں میں ڈھل رہی ہے

یہ زندگی
جانے کتنی صدیوں سے
یوں ہی شکلیں بدل رہی ہے

بدلتی شکلوں
بدلتے جسموں میں
چلتے پھرتے یہ اک سہارا
جو اس گھڑی
نام ہے تمہارا
اسی سے ساری چہل پہل ہے
اسی سے روشن ہے ہر نظارہ

ستارے توڑو یا گھر بساؤ
قلم اٹھاؤ یا سر جھکاؤ
تمہاری آنکھوں کی روشنی تک
ہے کھیل سارا

یہ کھیل ہو گا نہیں دوبارہ
یہ کھیل ہو گا نہیں دوبارہ

جمعرات، 23 اکتوبر، 2014

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو
جہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا

کہاں چراغ جلائیں کہاں گلاب رکھیں
چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکاں نہیں ملتا

یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیں
زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا

چراغ جلتے ہیں بینائی بجھنے لگتی ہے
خود اپنے گھر میں ہی گھر کا نشاں نہیں ملتا
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔