‏شکیل جعفری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏شکیل جعفری لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 4 اپریل، 2013

ابھی کچھ دیر باقی ہے

ابھی کچھ دیر باقی ہے
ابھی سوتے رہو بھائی
ابھی سے کیوں پریشاں ہو؟
ابھی بے روزگاری نے
تمہارے درپہ دستک بھی نہیں دی ہے
تمہارے بچے کی بوتل میں اب تک دودھ باقی ہے
تمہارے گھر میں راشن ہے ابھی فاقے نہیں ہوتے
تمہارے اہل خانہ رات کو بھوکے نہیں سوتے
ابھی سوتے رہو بھائی
ابھی سے کیوں پریشاں ہو؟
تمہارا کچھ نہیں بگڑا
تمہاری والدہ ہیں محترم اب بھی
کہ ان کی کوئی شب اب تک نہیں گزری ہے تھانے میں میں؟
تمہاری بہن کو اب تک کوئی” کاری ” نہیں کہتا
شریکِ زندگی کے کھلتے چہرے پر کسی ظالم نے کب تیزاب پھینکا ہے؟
نہ دختر نیک اختر نے ابھی تک اجتماعی زیادتی کا کرب جھیلا ہے
ابھی سوتے رہو بھائی
ابھی سے کیوں پریشاں ہو؟
تمہارا کچھ نہیں بگڑا
بتاؤ کیا کبھی لختِ جگر اغوا ہوا ہے
اور کبھی تم سے کسی نے آج تک تاوان مانگا ہے؟
دھماکے ہوتے رہتے ہیں مگر اب تک
تمھارا بھائی مسجد سے بخیر و عافیت گھر کو پہنچتا ہے
بھتیجا اب بھی ان گلیوں میں کرکٹ کھیلتا ہے
اور ابھی تک تو کسی نے بھی اسے الٹا نہیں ٹانگا
نہ اسکی لاش گلیوں میں گھسیٹی ہے
ابھی سوتے رہو بھائی
ابھی سے کیوں پریشاں ہو؟
تمہارا کچھ نہیں بگڑا
ابھی اس ظلم کے عفریت میں اور تم میں
تھوڑا فاصلہ ہے
اور ابھی تم تک پہنچنے میں
اسے کچھ وقت لگ جائیگا
تم سوتے رہو بھائی
ابھی کچھ دیر باقی ہے

منگل، 15 جنوری، 2013

جو ہم کہتے ہیں یہ بھی کیوں نہیں کہتا، یہ کافر ہے

جو ہم کہتے ہیں یہ بھی کیوں نہیں کہتا، یہ کافر ہے
ہمارا جبر یہ ہنس کر نہیں سہتا، یہ کافر ہے

یہ انساں کو مذاہب سے پرکھنے کا مخالف ہے
یہ نفرت کے قبیلوں میں نہیں رہتا، یہ کافرہے

بہت بے شرم ہے یہ ماں جو مزدوری کو نکلی ہے
یہ بچہ بھوک اک دن کی نہیں سہتا، یہ کافر ہے

یہ بادل ایک رستے پر نہیں چلتے یہ باغی ہیں
یہ دریا اس طرف کو کیوں نہیں بہتا، یہ کافر ہے

ہیں مشرک یہ ہوائیں روز یہ قبلہ بدلتی ہیں
گھنا جنگل انہیں کچھ بھی نہیں کہتا، یہ کافر ہے

یہ تتلی فاحشہ ہے پھول کے بستر پہ سوتی ہے
یہ جگنو شب کے پردے میں نہیں رہتا، یہ کافرہے

شریعاً تو کسی کا گنگنانا بھی نہیں جائز
یہ بھنورا کیوں بھلا پھر چپ نہیں رہتا یہ کافر ہے
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔