‏ناصر کاظمی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏ناصر کاظمی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 14 اکتوبر، 2014

اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے

اب کے سال پونم میں جب تو آئے گی ملنے
ہم نے سوچ رکھا ہے رات یوں گزاریں گے
دھڑکنیں بچھا دیں گے، شوخ ترے قدموں میں
ہم نگاہوں سے تیری، آرتی اتاریں گے

تو کہ آج قاتل ہے، پھر بھی راحتِ دل ہے
زہر کی ندی ہے تو، پھر بھی قیمتی ہے تو
پَست حوصلے والے، تیرا ساتھ کیا دیں گے!
زندگی اِدھر آجا! ہم تجھے گزاریں گے!

آہنی کلیجے کو، زخم کی ضرورت ہے
انگلیوں سے جو ٹپکے، اُس لہو کی حاجت ہے
آپ زلفِ جاناں کے خم سنواریے صاحب!
زندگی کی زلفوں کو آپ کیا سنواریں گے!

ہم تو وقت ہیں، پل ہیں، تیز گام گھڑیاں ہیں
بے قرار لمحے ہیں، بے تھکان صدیاں ہیں
کوئی ساتھ میں اپنے، آئے یا نہیں آئے
جو ملے گا رستے میں،ہم اسے پکاریں گے

جمعہ، 20 ستمبر، 2013

تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی

تیری زلفوں کے بکھرنے کا سبب ہے کوئی
آنکھ کہتی ہے ترے دل میں طلب ہے کوئی

آنچ آتی ہے ترے جسم کی عریانی سے
پیرہن ہے کہ سلگتی ہوئی شب ہے کوئی

ہوش اڑانے لگیں پھر چاند کی ٹھنڈی کرنیں
تیری بستی میں ہوں یا خوابِ طرب ہے کوئی

گیت بنتی ہے ترے شہر کی بھرپور ہوا
اجنبی میں ہی نہیں تو بھی عجب ہے کوئی

لیے جاتی ہیں کسی دھیان کی لہریں ناصؔر
دور تک سلسلۂ تاکِ طرب ہے کوئی

بدھ، 24 جولائی، 2013

شوق کیا کیا دکھائے جاتا ہے

شوق کیا کیا دکھائے جاتا ہے
دل تجھے بھی بھلائے جاتا ہے

اگلے وقتوں کی یادگاروں کو
آسماں کیوں مٹائے جاتا ہے

سوکھتے جارہے ہیں گل بوٹے
باغ کانٹے اگائے جاتا ہے

جاتے موسم کو کس طرح روکوں
پتّہ پتّہ اڑائے جاتا ہے

حال کس سے کہوں کہ ہر کوئی
اپنی اپنی سنائےجاتا ہے

کیا خبر کون سی خوشی کے لیے
دل یونہی دن گنوائے جاتا ہے

رنگ پیلا ہے تیرا کیوں ناصرؔ
تجھے کیا رنج کھائے جاتا ہے
اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔