اتوار، 16 مارچ، 2014

واسوخت

سچ ہے ہمیں کو آپ کے شکوے بجا نہ تھے​
بے شک ستم جناب کے سب دوستانہ تھے​
​
ہاں، جو جفا بھی آپ نے کی، قاعدے سے کی!​
ہاں، ہم ہی کاربندِ اصولِ وفا نہ تھے​
​
آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں​
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے​
​
کیوں دادِ غم، ہمیں نے طلب کی، برا کیا​
ہم سے جہاں میں کشتۂ غم اور کیا نہ تھے​
​
گر فکرِ زخم کی تو خطاوار ہیں کہ ہم​
کیوں محوِ مدحِ خوبیِ تیغِ ادا نہ تھے​
​
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا​
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے، بہت لادوا نہ تھے​
​
لب پر ہے تلخیِ مئے ایام، ورنہ فیض​ؔ
ہم تلخیِ کلام پہ مائل ذرا نہ تھے​

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

اس بلاگ کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ جیسے دوسرے تمام بلاگز کے محفوظ ہوا کرتے ہیں۔